نئی جفا کا مجھے اب تو کوئی باب نہ دے

Parvez Ahmad Parvez (b. 1968)

نئی جفا کا مجھے اب تو کوئی باب نہ دے

میں جس کو پڑھ کے بہک جاؤں وہ کتاب نہ دے

خدا بنا تو لیا میں نے ایک پتھر کو

سوال کیسے کروں جب کہ وہ جواب نہ دے

اگا دے درد کا سورج ہمارے گھر میں مگر

جلا دے روشنی جس کی وہ ماہتاب نہ دے

چمن چمن میں وہ پھولوں کا بادشاہ سہی

مگر جو رنگ مرا زخم دے گلاب نہ دے

چبھے جو خار کی مانند ہر نفس پرویزؔ

ستا لے مجھ کو مگر کوئی ایسا خواب نہ دے