Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. مانگے ہے اک ستارہ سر آسمان پھردل کو یہ ضد کہ سوئے افق ہو اڑان پھرKahkashan Tabassum (b. 1960)
  2. موسم خوشبو رنگ دھنک کے منظر سارے اس کے تھےرات کی کالی چھایا میری چاند ستارے اس کے تھےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  3. بہت سی نظمیں کہی تھیں میں نےلکھیں بھی لکھ لکھ کے پھاڑ ڈالیںKahkashan Tabassum (b. 1960)
  4. صرف ہمارا شہر ہی نہیں جلاجل گئی ہماری ریشمی تہذیب بھیKahkashan Tabassum (b. 1960)
  5. کوئی سومناتھ کا مندر نہیں تھااور نہ تلوار والے ہاتھ تھے غوریوں کےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  6. وہ مؤذن تھاذرا سی دیر کو آ یا تھا اپنے گھرKahkashan Tabassum (b. 1960)
  7. گڑھو مت چاک پہ رکھ کےکوئی کوزہ صراحی یا گھڑا پیالہKahkashan Tabassum (b. 1960)
  8. ہمیں خانوں میں مت بانٹوکہ ہم تو روشنی ٹھہرےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  9. چلو آؤ چلیںچلیں پھر لوٹ کے واپسKahkashan Tabassum (b. 1960)
  10. شاکاہاریگوشت مچھلی انڈے نہیں کھاتےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  11. وہ درد بھی تھا سوا حدوں سےتمہاری آمد کا جس میں مژدہ چھپا ہوا تھاKahkashan Tabassum (b. 1960)
  12. ہزاروں سال بیتےمری زرخیز دھرتی کے سنگھاسن پرKahkashan Tabassum (b. 1960)
  13. ہزاروں صدیاں گزر چکی ہیںکسی سمے میں وہ تھی ست ونتیKahkashan Tabassum (b. 1960)
  14. یہ تری شکل ہے کہ چاند کا روشن چہرہیہ ستارےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  15. آج اس کا مجھے اظہار تو کر لینے دوپیار ہے تم سے مجھے پیار تو کر لینے دوGhazal Jafari (b. 1960)
  16. آزماؤں گی اسے میں بھی سحر ہونے تکاپنے احساس کی حدت کو گہر ہونے تکGhazal Jafari (b. 1960)
  17. تم جان آرزو ہو نشاط خیال ہوکیا دوں بھلا مثال کہ تم بے مثال ہوGhazal Jafari (b. 1960)
  18. تم سے بچھڑ کے خود سے بھی ہم دور ہو گئےگمنام ہو کے اور بھی مشہور ہو گئےGhazal Jafari (b. 1960)
  19. دل پہ گراں ہے ذکر فراق و وصال بھیگزرے ہیں تیرے بعد کئی ماہ و سال بھیGhazal Jafari (b. 1960)
  20. دیکھی ہیں بزم شوق کی رعنائیاں بہتلکھی تھیں پر نصیب میں تنہائیاں بہتGhazal Jafari (b. 1960)
  21. شب فراق ہے اور ہم بھی غم کے مارے ہیںتمہارے خواب ہی تنہائی کے سہارے ہیںGhazal Jafari (b. 1960)
  22. کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنابرا شگون ہے ہر دم شکایتیں لکھناGhazal Jafari (b. 1960)
  23. ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنااہل ہوس کے بکنے کی رفتار دیکھناGhazal Jafari (b. 1960)
  24. میں دوپٹہ نہیں اوڑھتیاس کے پیچھےGhazal Jafari (b. 1960)
  25. میں کرب میں مبتلا تھیزندگی کی اذیتوں سے دو چارGhazal Jafari (b. 1960)
  26. میں ایک گوشت کا لوتھڑا تھیجسے کچھ خبر نہ تھیGhazal Jafari (b. 1960)
  27. بحر بے کنار تومیں ذرا سی آب جوIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
  28. زخم جب گفتگو نہیں کرتاچارہ گر بھی رفو نہیں کرتاIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
  29. شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے والےلوٹ کے آتے نہیں چھوڑ کے جانے والےIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
  30. صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہدروں کا شور مری خامشی سے شرمندہIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
  31. وہ خواب یا خیال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوںجو رنج ماہ و سال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوںIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
  32. ہوائے شام ذرا سا قیام ہوگا ناچراغ جاں کو جلاؤں کلام ہوگا ناIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
  33. یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلےتمہاری جیت ہو جائے ہماری ہار سے پہلےIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
  34. اکثر میں نے یہ سوچا ہےتجھ سے کیا رشتہ ہے میراKahkeshan Parveen (b. 1960)
  35. اب تک کوئی سکون کا منظر نہیں ملاصحرا تو تھے سفر میں سمندر نہیں ملاNafas Ambalvi (b. 1961)
  36. اب کسی کو کیا بتائیں کس قدر نادان تھےہم وہیں کشتی کو لے آئے جہاں طوفان تھےNafas Ambalvi (b. 1961)
  37. اب نہ میں ہوں نہ مرا غم ہے نہ جاں باقی ہےزندگی بس ترے ہونے کا گماں باقی ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
  38. اتنی مشکل میں کبھی پہلے تو جاں آئی نہ تھیاے محبت جب مری تجھ سے شناسائی نہ تھیNafas Ambalvi (b. 1961)
  39. اک شعلۂ حسرت ہوں مٹا کیوں نہیں دیتےمجھ کو مرے جینے کہ سزا کیوں نہیں دیتےNafas Ambalvi (b. 1961)
  40. اک غلط کردار کی پہچان میں مارا گیامیں کہانی میں نہیں عنوان میں مارا گیاNafas Ambalvi (b. 1961)
  41. اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتےتو سوچیے کہ اجالے کدھر گئے ہوتےNafas Ambalvi (b. 1961)
  42. بات کرتے ہو تو تکرار کی بو آتی ہےیار تم سے کسی بیمار کی بو آتی ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
  43. بازی اگرچہ زیست کی ہم ہار تو گئےلیکن جو دل پہ نقش تھے آزار تو گئےNafas Ambalvi (b. 1961)
  44. بیکسی جب کسی بازار میں آ جاتی ہےاک ہوس جیسے خریدار میں آ جاتی ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
  45. تجھے یہ کیسے بتاؤں عذاب کتنے تھےمری نظر کے مقابل سراب کتنے تھےNafas Ambalvi (b. 1961)
  46. تھکن سے تن بدن ٹوٹا پڑا ہےمسافت کو مگر رستہ پڑا ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
  47. جب سے نادانوں نے خود کو فانی کہنا چھوڑ دیاہم نے اپنی حیرت کو حیرانی کہنا چھوڑ دیاNafas Ambalvi (b. 1961)
  48. جتنے بھی آئے زینت بازار ہو گئےاک ہم ہی تھے جو صاحب کردار ہو گئےNafas Ambalvi (b. 1961)
  49. جنوں ہے ذہن میں تو حوصلے تلاش کرومثال آب رواں راستے تلاش کروNafas Ambalvi (b. 1961)
  50. جو سازشیں تھیں جلی بستیاں بتاتی ہیںیہ درد وہ ہیں جو خاموشیاں بتاتی ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)