Poetry
Poet
Meter
- مانگے ہے اک ستارہ سر آسمان پھردل کو یہ ضد کہ سوئے افق ہو اڑان پھرKahkashan Tabassum (b. 1960)
- موسم خوشبو رنگ دھنک کے منظر سارے اس کے تھےرات کی کالی چھایا میری چاند ستارے اس کے تھےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- بہت سی نظمیں کہی تھیں میں نےلکھیں بھی لکھ لکھ کے پھاڑ ڈالیںKahkashan Tabassum (b. 1960)
- صرف ہمارا شہر ہی نہیں جلاجل گئی ہماری ریشمی تہذیب بھیKahkashan Tabassum (b. 1960)
- کوئی سومناتھ کا مندر نہیں تھااور نہ تلوار والے ہاتھ تھے غوریوں کےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- وہ مؤذن تھاذرا سی دیر کو آ یا تھا اپنے گھرKahkashan Tabassum (b. 1960)
- گڑھو مت چاک پہ رکھ کےکوئی کوزہ صراحی یا گھڑا پیالہKahkashan Tabassum (b. 1960)
- ہمیں خانوں میں مت بانٹوکہ ہم تو روشنی ٹھہرےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- چلو آؤ چلیںچلیں پھر لوٹ کے واپسKahkashan Tabassum (b. 1960)
- شاکاہاریگوشت مچھلی انڈے نہیں کھاتےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- وہ درد بھی تھا سوا حدوں سےتمہاری آمد کا جس میں مژدہ چھپا ہوا تھاKahkashan Tabassum (b. 1960)
- ہزاروں سال بیتےمری زرخیز دھرتی کے سنگھاسن پرKahkashan Tabassum (b. 1960)
- ہزاروں صدیاں گزر چکی ہیںکسی سمے میں وہ تھی ست ونتیKahkashan Tabassum (b. 1960)
- یہ تری شکل ہے کہ چاند کا روشن چہرہیہ ستارےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- آج اس کا مجھے اظہار تو کر لینے دوپیار ہے تم سے مجھے پیار تو کر لینے دوGhazal Jafari (b. 1960)
- آزماؤں گی اسے میں بھی سحر ہونے تکاپنے احساس کی حدت کو گہر ہونے تکGhazal Jafari (b. 1960)
- تم جان آرزو ہو نشاط خیال ہوکیا دوں بھلا مثال کہ تم بے مثال ہوGhazal Jafari (b. 1960)
- تم سے بچھڑ کے خود سے بھی ہم دور ہو گئےگمنام ہو کے اور بھی مشہور ہو گئےGhazal Jafari (b. 1960)
- دل پہ گراں ہے ذکر فراق و وصال بھیگزرے ہیں تیرے بعد کئی ماہ و سال بھیGhazal Jafari (b. 1960)
- دیکھی ہیں بزم شوق کی رعنائیاں بہتلکھی تھیں پر نصیب میں تنہائیاں بہتGhazal Jafari (b. 1960)
- شب فراق ہے اور ہم بھی غم کے مارے ہیںتمہارے خواب ہی تنہائی کے سہارے ہیںGhazal Jafari (b. 1960)
- کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنابرا شگون ہے ہر دم شکایتیں لکھناGhazal Jafari (b. 1960)
- ہے گرم انتخاب کا بازار دیکھنااہل ہوس کے بکنے کی رفتار دیکھناGhazal Jafari (b. 1960)
- میں دوپٹہ نہیں اوڑھتیاس کے پیچھےGhazal Jafari (b. 1960)
- میں کرب میں مبتلا تھیزندگی کی اذیتوں سے دو چارGhazal Jafari (b. 1960)
- میں ایک گوشت کا لوتھڑا تھیجسے کچھ خبر نہ تھیGhazal Jafari (b. 1960)
- بحر بے کنار تومیں ذرا سی آب جوIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- زخم جب گفتگو نہیں کرتاچارہ گر بھی رفو نہیں کرتاIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے والےلوٹ کے آتے نہیں چھوڑ کے جانے والےIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہدروں کا شور مری خامشی سے شرمندہIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- وہ خواب یا خیال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوںجو رنج ماہ و سال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوںIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- ہوائے شام ذرا سا قیام ہوگا ناچراغ جاں کو جلاؤں کلام ہوگا ناIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلےتمہاری جیت ہو جائے ہماری ہار سے پہلےIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- اکثر میں نے یہ سوچا ہےتجھ سے کیا رشتہ ہے میراKahkeshan Parveen (b. 1960)
- اب تک کوئی سکون کا منظر نہیں ملاصحرا تو تھے سفر میں سمندر نہیں ملاNafas Ambalvi (b. 1961)
- اب کسی کو کیا بتائیں کس قدر نادان تھےہم وہیں کشتی کو لے آئے جہاں طوفان تھےNafas Ambalvi (b. 1961)
- اب نہ میں ہوں نہ مرا غم ہے نہ جاں باقی ہےزندگی بس ترے ہونے کا گماں باقی ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
- اتنی مشکل میں کبھی پہلے تو جاں آئی نہ تھیاے محبت جب مری تجھ سے شناسائی نہ تھیNafas Ambalvi (b. 1961)
- اک شعلۂ حسرت ہوں مٹا کیوں نہیں دیتےمجھ کو مرے جینے کہ سزا کیوں نہیں دیتےNafas Ambalvi (b. 1961)
- اک غلط کردار کی پہچان میں مارا گیامیں کہانی میں نہیں عنوان میں مارا گیاNafas Ambalvi (b. 1961)
- اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتےتو سوچیے کہ اجالے کدھر گئے ہوتےNafas Ambalvi (b. 1961)
- بات کرتے ہو تو تکرار کی بو آتی ہےیار تم سے کسی بیمار کی بو آتی ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
- بازی اگرچہ زیست کی ہم ہار تو گئےلیکن جو دل پہ نقش تھے آزار تو گئےNafas Ambalvi (b. 1961)
- بیکسی جب کسی بازار میں آ جاتی ہےاک ہوس جیسے خریدار میں آ جاتی ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
- تجھے یہ کیسے بتاؤں عذاب کتنے تھےمری نظر کے مقابل سراب کتنے تھےNafas Ambalvi (b. 1961)
- تھکن سے تن بدن ٹوٹا پڑا ہےمسافت کو مگر رستہ پڑا ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
- جب سے نادانوں نے خود کو فانی کہنا چھوڑ دیاہم نے اپنی حیرت کو حیرانی کہنا چھوڑ دیاNafas Ambalvi (b. 1961)
- جتنے بھی آئے زینت بازار ہو گئےاک ہم ہی تھے جو صاحب کردار ہو گئےNafas Ambalvi (b. 1961)
- جنوں ہے ذہن میں تو حوصلے تلاش کرومثال آب رواں راستے تلاش کروNafas Ambalvi (b. 1961)
- جو سازشیں تھیں جلی بستیاں بتاتی ہیںیہ درد وہ ہیں جو خاموشیاں بتاتی ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)