بیکسی جب کسی بازار میں آ جاتی ہے
Nafas Ambalvi (b. 1961)بیکسی جب کسی بازار میں آ جاتی ہے
اک ہوس جیسے خریدار میں آ جاتی ہے
رات بھر چیختی پھرتی ہے خبر بستی میں
پھر تڑپتی ہوئی اخبار میں آ جاتی ہے
میرا ہمسایہ بھی روتا ہے جو اپنے گھر میں
اک نمی سی مری دیوار میں آ جاتی ہے
ہم تو سوکھے ہوئے دریا میں بھی اترے لیکن
اپنی کشتی ہے کہ منجدھار میں آ جاتی ہے
درد تو دل سے زباں تک بھی نہیں آ پایا
پھر بھی تلخی ہے کہ اشعار میں آ جاتی ہے
جو مرے دل پہ گزرتی ہے تجھے کیا معلوم
جب رضا بھی ترے انکار میں آ جاتی ہے
ماہ رمضان میں رنجش بھی محبت بن کر
مسکراتی ہوئی افطار میں آ جاتی ہے
یہ جو ہر بات پہ تم آہ سی بھرتے ہو نفسؔ
اک علامت ہے جو بیمار میں آ جاتی ہے