بازی اگرچہ زیست کی ہم ہار تو گئے
Nafas Ambalvi (b. 1961)بازی اگرچہ زیست کی ہم ہار تو گئے
لیکن جو دل پہ نقش تھے آزار تو گئے
کتنے شناوروں کو یہ دریا نگل گیا
طغیانیوں میں ڈوب کے ہم پار تو گئے
بارش کا زور ہے مرے خستہ مکان پر
لگتا ہے اب کے یہ در و دیوار تو گئے
ہم لوگ اب قدیم نمائش کی چیز ہیں
بازار سے اب اپنے خریدار تو گئے
وہ درمیاں غزل کے جو اٹھ کر چلا گیا
اے بزم شاعری ترے معیار تو گئے
لگتا ہے اب کے جان ہی جائے گی ایک دن
اس شاعری کے شوق میں گھر بار تو گئے
چل اے نفسؔ کہ ہم بھی کہیں اور جا بسیں
دو چار تھے جو شہر میں غم خوار تو گئے