Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جو گامزن ہیں انہیں قافلوں کے ساتھ چلویہ مشورہ ہے مرا تجربوں کے ساتھ چلوNafas Ambalvi (b. 1961)
  2. خود کو اس شہر میں تنہا بھی نہیں کہہ سکتےاور کسی شخص کو اپنا بھی نہیں کہہ سکتےNafas Ambalvi (b. 1961)
  3. دربدر ہو کے در سے ٹوٹ گیامیں تو جیسے سفر سے ٹوٹ گیاNafas Ambalvi (b. 1961)
  4. دھوپ تھی صحرا تھا لیکن جسم کا سایہ نہ تھاآدمی اس سے زیادہ تو کبھی تنہا نہ تھاNafas Ambalvi (b. 1961)
  5. سر برہنہ بھری برسات میں گھر سے نکلےہم بھی کس گردش حالات میں گھر سے نکلےNafas Ambalvi (b. 1961)
  6. سنا تھا نیزہ و تلوار و خنجر بیچ ڈالے ہیںمگر ظل الٰہی نے تو لشکر بیچ ڈالے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  7. صحرا میں جو ملا تھا مجھے اتنا یاد ہےمیرا ہی نقش پا تھا مجھے اتنا یاد ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
  8. عمر بھر درد کے رشتوں کو نبھانے سے رہازندگی میں تو ترے ناز اٹھانے سے رہاNafas Ambalvi (b. 1961)
  9. عمر بھی کٹ گئی اور جیا بھی نہیںزندگی تجھ سے کوئی گلہ بھی نہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  10. کون سی شاخ کا پتا تھا ہرا بھول گیاپیڑ سے ٹوٹ کے میں اپنا پتہ بھول گیاNafas Ambalvi (b. 1961)
  11. گھر کسی کا بھی ہو جلتا نہیں دیکھا جاتاہم سے چپ رہ کے تماشہ نہیں دیکھا جاتاNafas Ambalvi (b. 1961)
  12. مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گیان چراغوں سے نہ الجھو انگلیاں جل جائیں گیNafas Ambalvi (b. 1961)
  13. ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگمر مر کے جی رہے ہیں مگر صبح و شام لوگNafas Ambalvi (b. 1961)
  14. نہ جانے کب کی دبی تلخیاں نکل آئیںذرا سی بات تھی اور برچھیاں نکل آئیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  15. وہ میرا دوست ہے اور مجھ سے واسطہ بھی نہیںجو قربتیں بھی نہیں ہیں تو فاصلا بھی نہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  16. ہزار ظلم سہے اور ملال بھی نہ کرےیہ حکم ہے کہ رعایا سوال بھی نہ کرےNafas Ambalvi (b. 1961)
  17. ہم آج اپنا مقدر بدل کے دیکھتے ہیںتمہارے ساتھ بھی کچھ دور چل کے دیکھتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  18. ہم شہر محبت کو بسانے میں لگے ہیںکچھ لوگ مگر آگ لگانے میں لگے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  19. یوں تو خود اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگحادثے کیسے بھی ہوں لیکن گزر جاتے ہیں لوگNafas Ambalvi (b. 1961)
  20. اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنابہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  21. اب تک تو اس سفر میں فقط تشنگی ملیسنتے تھے راستے میں سمندر بھی آئے گاNafas Ambalvi (b. 1961)
  22. اب کہاں تک پتھروں کی بندگی کرتا پھروںدل سے جس دم بھی پکاروں گا خدا مل جائے گاNafas Ambalvi (b. 1961)
  23. اپنے دراز قد پہ بہت ناز تھا جنہیںوہ پیڑ آندھیوں میں زمیں سے اکھڑ گئےNafas Ambalvi (b. 1961)
  24. اٹھا لایا کتابوں سے وہ اک الفاظ کا جنگلسنا ہے اب مری خاموشیوں کا ترجمہ ہوگاNafas Ambalvi (b. 1961)
  25. اس شہر میں خوابوں کی عمارت نہیں بنتیبہتر ہے کہ تعمیر کا نقشہ ہی بدل لوNafas Ambalvi (b. 1961)
  26. اسے گماں ہے کہ میری اڑان کچھ کم ہےمجھے یقیں ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
  27. تاریکیاں قبول تھیں مجھ کو تمام عمرلیکن میں جگنوؤں کی خوشامد نہ کر سکاNafas Ambalvi (b. 1961)
  28. تو دریا ہے تو ہوگا ہاں مگر اتنا سمجھ لیناترے جیسے کئی دریا مری آنکھوں میں رہتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  29. جب بھی اس دیوار سے ملتا ہوں رو پڑتا ہوں میںکچھ نہ کچھ تو ہے یقیناً اس میں پتھر سے الگNafas Ambalvi (b. 1961)
  30. زخم ابھی تک تازہ ہیں ہر داغ سلگتا رہتا ہےسینہ میں اک جلیاں والا باغ سلگتا رہتا ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
  31. زندگی وقت کے صفحوں میں نہاں ہے صاحبیہ غزل صرف کتابوں میں نہیں ملتی ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
  32. ساری گواہیاں تو مرے حق میں آ گئیںلیکن مرا بیان ہی میرے خلاف تھاNafas Ambalvi (b. 1961)
  33. مرنے کو مر بھی جاؤں کوئی مسئلہ نہیںلیکن یہ طے تو ہو کہ ابھی جی رہا ہوں میںNafas Ambalvi (b. 1961)
  34. مرے خیال کی پرواز بس تمہیں تک تھیپھر اس کے بعد مجھے کوئی آسماں نہ ملاNafas Ambalvi (b. 1961)
  35. نگاہوں کے مناظر بے سبب دھندھلے نہیں پڑتےہماری آنکھ میں دریا کوئی ٹھہرا ہوا ہوگاNafas Ambalvi (b. 1961)
  36. ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینالگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  37. ہماری زندگی جیسے کوئی شب بھر کا جلسہ ہےسحر ہوتے ہی خوابوں کے گھروندے ٹوٹ جاتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  38. ہمیں دنیا فقط کاغذ کا اک ٹکڑا سمجھتی ہےپتنگوں میں اگر ڈھل جائیں ہم تو آسماں چھو لیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  39. یہ عشق کے خطوط بھی کتنے عجیب ہیںآنکھیں وہ پڑھ رہی ہیں جو تحریر بھی نہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
  40. اپنا محاسبہ کبھی کرنے نہیں دیاخود بینیوں نے ہم کو سنورنے نہیں دیاObaidur Rahman (1961–2014)
  41. ایک مدت سے جو سینے میں بسا ہے کیا ہےکرب احساس ہے یا کرب انا ہے کیا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  42. بڑے ہی ناز سے لایا گیا ہوںمیں کاندھا دے کر اٹھوایا گیا ہوںObaidur Rahman (1961–2014)
  43. پر کیف کہیں کے بھی نظارے نہ رہیں گےدنیا میں اگر عشق کے مارے نہ رہیں گےObaidur Rahman (1961–2014)
  44. پہلے کچھ دن مرے زخموں کی نمائش ہوگیپھر مرے حال پہ اس بت کی نوازش ہوگیObaidur Rahman (1961–2014)
  45. تصور میں مرے ایسے کوئی چہرہ نکلتا ہےکہ سوکھی شاخ پر جیسے ہرا پتہ نکلتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  46. تو اب حالت میں اپنی یوں بھی تبدیلی نہیں ہوتییہ مٹی خون بھی پی کر کبھی گیلی نہیں ہوتیObaidur Rahman (1961–2014)
  47. جستجو کے سفر میں رہتے ہیںہم کہ پیہم خبر میں رہتے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
  48. خوشبو ترے لہجے کی مرے فن میں بسی ہےاشعار ہیں میرے تری آواز کے سائےObaidur Rahman (1961–2014)
  49. شعور تک ابھی ان کی کہاں رسائی ہےابھی تو کتنے خداؤں کی واں خدائی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  50. عجیب بات ہے بیمار ہے نہیں بھی ہےیہ دل تمہارا طلب گار ہے نہیں بھی ہےObaidur Rahman (1961–2014)