Poetry
Poet
Meter
- جو گامزن ہیں انہیں قافلوں کے ساتھ چلویہ مشورہ ہے مرا تجربوں کے ساتھ چلوNafas Ambalvi (b. 1961)
- خود کو اس شہر میں تنہا بھی نہیں کہہ سکتےاور کسی شخص کو اپنا بھی نہیں کہہ سکتےNafas Ambalvi (b. 1961)
- دربدر ہو کے در سے ٹوٹ گیامیں تو جیسے سفر سے ٹوٹ گیاNafas Ambalvi (b. 1961)
- دھوپ تھی صحرا تھا لیکن جسم کا سایہ نہ تھاآدمی اس سے زیادہ تو کبھی تنہا نہ تھاNafas Ambalvi (b. 1961)
- سر برہنہ بھری برسات میں گھر سے نکلےہم بھی کس گردش حالات میں گھر سے نکلےNafas Ambalvi (b. 1961)
- سنا تھا نیزہ و تلوار و خنجر بیچ ڈالے ہیںمگر ظل الٰہی نے تو لشکر بیچ ڈالے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- صحرا میں جو ملا تھا مجھے اتنا یاد ہےمیرا ہی نقش پا تھا مجھے اتنا یاد ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
- عمر بھر درد کے رشتوں کو نبھانے سے رہازندگی میں تو ترے ناز اٹھانے سے رہاNafas Ambalvi (b. 1961)
- عمر بھی کٹ گئی اور جیا بھی نہیںزندگی تجھ سے کوئی گلہ بھی نہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- کون سی شاخ کا پتا تھا ہرا بھول گیاپیڑ سے ٹوٹ کے میں اپنا پتہ بھول گیاNafas Ambalvi (b. 1961)
- گھر کسی کا بھی ہو جلتا نہیں دیکھا جاتاہم سے چپ رہ کے تماشہ نہیں دیکھا جاتاNafas Ambalvi (b. 1961)
- مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گیان چراغوں سے نہ الجھو انگلیاں جل جائیں گیNafas Ambalvi (b. 1961)
- ملتے ہیں مسکرا کے اگرچہ تمام لوگمر مر کے جی رہے ہیں مگر صبح و شام لوگNafas Ambalvi (b. 1961)
- نہ جانے کب کی دبی تلخیاں نکل آئیںذرا سی بات تھی اور برچھیاں نکل آئیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- وہ میرا دوست ہے اور مجھ سے واسطہ بھی نہیںجو قربتیں بھی نہیں ہیں تو فاصلا بھی نہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہزار ظلم سہے اور ملال بھی نہ کرےیہ حکم ہے کہ رعایا سوال بھی نہ کرےNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہم آج اپنا مقدر بدل کے دیکھتے ہیںتمہارے ساتھ بھی کچھ دور چل کے دیکھتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہم شہر محبت کو بسانے میں لگے ہیںکچھ لوگ مگر آگ لگانے میں لگے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- یوں تو خود اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگحادثے کیسے بھی ہوں لیکن گزر جاتے ہیں لوگNafas Ambalvi (b. 1961)
- اب ان کی خواب گاہوں میں کوئی آواز مت کرنابہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- اب تک تو اس سفر میں فقط تشنگی ملیسنتے تھے راستے میں سمندر بھی آئے گاNafas Ambalvi (b. 1961)
- اب کہاں تک پتھروں کی بندگی کرتا پھروںدل سے جس دم بھی پکاروں گا خدا مل جائے گاNafas Ambalvi (b. 1961)
- اپنے دراز قد پہ بہت ناز تھا جنہیںوہ پیڑ آندھیوں میں زمیں سے اکھڑ گئےNafas Ambalvi (b. 1961)
- اٹھا لایا کتابوں سے وہ اک الفاظ کا جنگلسنا ہے اب مری خاموشیوں کا ترجمہ ہوگاNafas Ambalvi (b. 1961)
- اس شہر میں خوابوں کی عمارت نہیں بنتیبہتر ہے کہ تعمیر کا نقشہ ہی بدل لوNafas Ambalvi (b. 1961)
- اسے گماں ہے کہ میری اڑان کچھ کم ہےمجھے یقیں ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
- تاریکیاں قبول تھیں مجھ کو تمام عمرلیکن میں جگنوؤں کی خوشامد نہ کر سکاNafas Ambalvi (b. 1961)
- تو دریا ہے تو ہوگا ہاں مگر اتنا سمجھ لیناترے جیسے کئی دریا مری آنکھوں میں رہتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- جب بھی اس دیوار سے ملتا ہوں رو پڑتا ہوں میںکچھ نہ کچھ تو ہے یقیناً اس میں پتھر سے الگNafas Ambalvi (b. 1961)
- زخم ابھی تک تازہ ہیں ہر داغ سلگتا رہتا ہےسینہ میں اک جلیاں والا باغ سلگتا رہتا ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
- زندگی وقت کے صفحوں میں نہاں ہے صاحبیہ غزل صرف کتابوں میں نہیں ملتی ہےNafas Ambalvi (b. 1961)
- ساری گواہیاں تو مرے حق میں آ گئیںلیکن مرا بیان ہی میرے خلاف تھاNafas Ambalvi (b. 1961)
- مرنے کو مر بھی جاؤں کوئی مسئلہ نہیںلیکن یہ طے تو ہو کہ ابھی جی رہا ہوں میںNafas Ambalvi (b. 1961)
- مرے خیال کی پرواز بس تمہیں تک تھیپھر اس کے بعد مجھے کوئی آسماں نہ ملاNafas Ambalvi (b. 1961)
- نگاہوں کے مناظر بے سبب دھندھلے نہیں پڑتےہماری آنکھ میں دریا کوئی ٹھہرا ہوا ہوگاNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینالگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہماری زندگی جیسے کوئی شب بھر کا جلسہ ہےسحر ہوتے ہی خوابوں کے گھروندے ٹوٹ جاتے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہمیں دنیا فقط کاغذ کا اک ٹکڑا سمجھتی ہےپتنگوں میں اگر ڈھل جائیں ہم تو آسماں چھو لیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- یہ عشق کے خطوط بھی کتنے عجیب ہیںآنکھیں وہ پڑھ رہی ہیں جو تحریر بھی نہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- اپنا محاسبہ کبھی کرنے نہیں دیاخود بینیوں نے ہم کو سنورنے نہیں دیاObaidur Rahman (1961–2014)
- ایک مدت سے جو سینے میں بسا ہے کیا ہےکرب احساس ہے یا کرب انا ہے کیا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- بڑے ہی ناز سے لایا گیا ہوںمیں کاندھا دے کر اٹھوایا گیا ہوںObaidur Rahman (1961–2014)
- پر کیف کہیں کے بھی نظارے نہ رہیں گےدنیا میں اگر عشق کے مارے نہ رہیں گےObaidur Rahman (1961–2014)
- پہلے کچھ دن مرے زخموں کی نمائش ہوگیپھر مرے حال پہ اس بت کی نوازش ہوگیObaidur Rahman (1961–2014)
- تصور میں مرے ایسے کوئی چہرہ نکلتا ہےکہ سوکھی شاخ پر جیسے ہرا پتہ نکلتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- تو اب حالت میں اپنی یوں بھی تبدیلی نہیں ہوتییہ مٹی خون بھی پی کر کبھی گیلی نہیں ہوتیObaidur Rahman (1961–2014)
- جستجو کے سفر میں رہتے ہیںہم کہ پیہم خبر میں رہتے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
- خوشبو ترے لہجے کی مرے فن میں بسی ہےاشعار ہیں میرے تری آواز کے سائےObaidur Rahman (1961–2014)
- شعور تک ابھی ان کی کہاں رسائی ہےابھی تو کتنے خداؤں کی واں خدائی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
- عجیب بات ہے بیمار ہے نہیں بھی ہےیہ دل تمہارا طلب گار ہے نہیں بھی ہےObaidur Rahman (1961–2014)