جب سے نادانوں نے خود کو فانی کہنا چھوڑ دیا
Nafas Ambalvi (b. 1961)جب سے نادانوں نے خود کو فانی کہنا چھوڑ دیا
ہم نے اپنی حیرت کو حیرانی کہنا چھوڑ دیا
دریا تیری عظمت پر بھی یہ الزام تو آئے گا
آخر پیاسے لوگوں نے کیوں پانی کہنا چھوڑ دیا
سوچو کتنی مایوسی کا موسم ہے اس بستی میں
لوگوں نے بے معنی کو بے معنی کہنا چھوڑ دیا
میرا ان طوفانوں سے تو بس اتنا سا جھگڑا ہے
میں نے تیز ہواؤں کو طوفانی کہنا چھوڑ دیا
جن کی رعنائی کے پیچھے سو سو جھوٹ کی پرتیں ہیں
ہم نے ایسے چہروں کو نورانی کہنا چھوڑ دیا
مانا اس نے سبز فضائیں صحرا صحرا کر ڈالیں
تم نے کیوں ویرانی کو ویرانی کہنا چھوڑ دیا
میرے غم کا شاید تم کو اس سے کچھ اندازہ ہو
میں نے اس کی چونر کو اب دھانی کہنا چھوڑ دیا