بات کرتے ہو تو تکرار کی بو آتی ہے
Nafas Ambalvi (b. 1961)بات کرتے ہو تو تکرار کی بو آتی ہے
یار تم سے کسی بیمار کی بو آتی ہے
چائے کے ساتھ یہ خبریں نہ پڑھا کر ورنہ
منہ سے دن بھر اسی اخبار کی بو آتی ہے
آپ کہہ کر نہ ہو تو مجھ سے مخاطب اے دوست
مجھ کو اس لفظ سے اغیار کی بو آتی ہے
تیری گفتار سے ہوتا ہے تجارت کا گماں
تیرے لہجے سے خریدار کی بو آتی ہے
پہلے خوشبو کی طرح لوگ مہکتے تھے یہاں
اب تو گرتے ہوئے معیار کی بو آتی ہے
وہ جو اس شہر میں کچھ لوگ ہیں اجلے اجلے
اب مجھے ان سے گنہ گار کی بو آتی ہے
تیرے اخلاق میں اک مشک فشانی ہے نفسؔ
تیرے کردار سے خوددار کی بو آتی ہے