اب نہ میں ہوں نہ مرا غم ہے نہ جاں باقی ہے
Nafas Ambalvi (b. 1961)اب نہ میں ہوں نہ مرا غم ہے نہ جاں باقی ہے
زندگی بس ترے ہونے کا گماں باقی ہے
اتنا خوش بھی نہ ہو اے مجھ کو جلانے والے
دیکھ جل کر بھی ابھی مجھ میں دھواں باقی ہے
میری مشکل کہ میں خود اپنی زباں کاٹ چکا
اس کو یہ ڈر کہ ابھی میرا بیاں باقی ہے
کچھ تو اس بار بہاروں نے بھی ڈھائے ہیں ستم
اس پہ یہ جبر کہ موسم میں خزاں باقی ہے
جسم کے ساتھ تمنا بھی گئی حسرت بھی
اب یہاں کوئی مکیں ہے نہ مکاں باقی ہے
مجھ کو اب پہلے سی نسبت بھی نہیں ہے تجھ سے
اب تجھے مجھ سے محبت بھی کہاں باقی ہے