اب تک کوئی سکون کا منظر نہیں ملا
Nafas Ambalvi (b. 1961)اب تک کوئی سکون کا منظر نہیں ملا
صحرا تو تھے سفر میں سمندر نہیں ملا
افسوس یہ نہیں کہ قبا چاک ہو گئی
ہے رنج یہ کہ کوئی رفوگر نہیں ملا
دشمن نہیں یہ سب مرے احباب ہیں مگر
کس کس کی آستین میں خنجر نہیں ملا
اس کا ملال ہے کہ میں اردو ہوں اس لیے
دل میں جگہ ملی ہے مگر گھر نہیں ملا
یہ رہگزر بھی جیسے سرابوں کا دشت ہے
اب تک تو کوئی میل کا پتھر نہیں ملا
سارے جہاں کی خاک اڑانے کے بعد بھی
مولا ترے نظام کا دفتر نہیں ملا