جتنے بھی آئے زینت بازار ہو گئے
Nafas Ambalvi (b. 1961)جتنے بھی آئے زینت بازار ہو گئے
اک ہم ہی تھے جو صاحب کردار ہو گئے
جھوٹوں پہ تیرے شہر میں الزام تک نہیں
اور ہم نے سچ کہا تو گنہ گار ہو گئے
جب بھی کہیں چراغ جلا ہے سکوت شب
سب لوگ آندھیوں کے طرفدار ہو گئے
وہ ظالموں کے ساتھ ہیں مظلوم بے اماں
کیسے ہمارے عہد کے اخبار ہو گئے
خطرے میں ہے اب اپنے قبیلے کی آبرو
جو مخبروں میں تھے وہی سردار ہو گئے
ٹپکا لہو نفسؔ کے بدن سے تو یوں ہوا
قطرے جہاں جہاں گرے اشعار ہو گئے