موسموں کے شہر میں پانی کے گھر اگنے لگے

Tahir Hanfi (b. 1955)

موسموں کے شہر میں پانی کے گھر اگنے لگے

چپ ہوا کی کوکھ سے تنہا سفر اگنے لگے

ہاتھ کی ریکھاؤں میں ساکت ہوئے معنی و حرف

انگلیوں کی پور پہ خوں کے شجر اگنے لگے

خواہشوں کی آگ میں جلتا بدن تپتا لہو

سوچتے جسموں کی شاخوں پر ہنر اگنے لگے

میری مٹی نے مجھے پہچان بخشی تھی مگر

آنکھ کی پتلی میں اجڑے خواب گھر اگنے لگے

زندگی کی دوڑ میں طاہرؔ اکیلا تو نہیں

وقت کی رفتار میں زخموں کے پر اگنے لگے