راستہ بے زباں بے صدا بھی نہیں

Ejaz Ansari (b. 1955)

راستہ بے زباں بے صدا بھی نہیں

کوئی مڑ کر مگر دیکھتا بھی نہیں

میرے لہجے سے نا آشنا بھی نہیں

کوئی دروازہ لیکن کھلا بھی نہیں

عمر بھر ہم بھٹکتے رہے در بدر

کوئی منزل کوئی راستہ بھی نہیں

سر جھکا کر ملے دوستوں سے مگر

قد ہمارا کسی سے گھٹا بھی نہیں

خود کی نظروں میں گر کر پتہ یہ چلا

اس سے بڑھ کر تو کوئی سزا بھی نہیں

اے فلک تو ہمارا نگہبان ہے

ان فسادوں میں اب کچھ بچا بھی نہیں

انکساری سے ملتے ہیں اعجازؔ ہم

ورنہ ہم سے تو کوئی بڑا بھی نہیں