حسن کی مصلحتوں کا ہے تقاضا دل سے
Zafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)حسن کی مصلحتوں کا ہے تقاضا دل سے
کہ نکل جائے غم عشق کا سودا دل سے
ہو مگر جس کی رگ و پے میں محبت ساری
جس کے احساس پہ ہو نشۂ الفت طاری
کس طرح درد محبت سے کنارا کر لے
جسم اور روح کی فرقت کو گوارا کر لے
آہ لیکن یہ کسوٹی ہے وفاداری کی
آزمائش ہے یہی عشق و ہوس کاری کی
دیکھ اے دوست مرے جذبۂ الفت کو دیکھ
میری بے لوث وفا پاک محبت کو دیکھ
تجھ سے بھی تیرے لئے قطع نظر کرتا ہوں
ترک الفت کو نہ کرنا تھا مگر کرتا ہوں
دیدۂ شوق نہ ہوگا تری جانب نگراں
اب نہ آئے گی لبوں تک مرے فریاد و فغاں
چشم تر میں اب نہ اشکوں کی نمی آئے گی
دل کی بیتابیٔ وحشت میں کمی آئے گی
کیا مگر عشق کی فطرت بھی بدل جائے گی
آہ کیا یاد تری دل سے نکل جائے گی