فلک سے جو ہوئے دھرتی کی نذر سادہ لوگ

Tahir Hanfi (b. 1955)

فلک سے جو ہوئے دھرتی کی نذر سادہ لوگ

انہی کے غم سے ہیں واقف یہ بے لبادہ لوگ

میں اپنے آپ کو اب ڈھونڈھ بھی نہیں سکتا

مرے جنازے میں ہیں اس قدر زیادہ لوگ

انہی میں میں بھی ہوں شامل سو تو نہیں ملتا

بنا کے توڑنے والے ہیں جو ارادہ لوگ

کہ چیر ڈالا گیا پہلے بے گناہ مجھے

مرے وجود کا چنتے ہیں اب برادہ لوگ

رفیق چھوڑ کے دل میں جو رکھیں دشمن کو

کہ میرے جیسے کہاں ہوں گے دل کشادہ لوگ

جلا رہا ہوں میں خود کو کچھ اس لیے طاہرؔ

کریں گے دیپ کی اس لو سے استفادہ لوگ