دھوپ کے سمندر میں
Tahir Hanfi (b. 1955)دھوپ کے سمندر میں
برف کی صلیبوں پر
خواہشوں کے تنکوں سے
ایک لفظ لکھا ہے
لفظ جو امانت ہے
روشنی کی صبحوں کی
درد کے رفیقوں کی
پھول پھول شاخوں کی
زرد زرد شاموں کی
نا شناس ناموں کی
لفظ جو صداقت ہے
ان کہے سوالوں کی
جاگتے خیالوں کی
رینگتے اجالوں کی
کس طرح سمیٹے گا
میری تیری نسلوں کو
خواب کے جزیروں میں
آنے والے لمحوں میں
لفظ جو دیانت ہے
لفظ جو عبادت ہے