یخ بستہ باغ میں کوئی تتلی حنوط تھی

Tahir Hanfi (b. 1955)

یخ بستہ باغ میں کوئی تتلی حنوط تھی

پھولوں پہ میرے خواب کی مٹی حنوط تھی

شہزادیوں کے خواب ہوا نے چرا لئے

تعبیر میں بھی نیند کی سسکی حنوط تھی

اس کے ہدف تھے باعث شرمندگی اسے

اس کے ہر ایک تیر میں داسی حنوط تھی

لفظوں کو قید کر لیا اس کے حجاب نے

اوجھل نظر سے عرض کی دیوی حنوط تھی

ہر کوہ ایک قہر کی صورت دکھائی دے

ہر سنگ میں غریب کی بیٹی حنوط تھی

ٹپکا ہے خون شیلف سے طاہرؔ زمین پر

کس کس کتاب میں مری چٹھی حنوط تھی