موت ہر لمحہ انتظار میں ہے
Ejaz Ansari (b. 1955)موت ہر لمحہ انتظار میں ہے
زندگی آج بھی ادھار میں ہے
ساری دنیا سے دشمنی لے لی
کتنی جرأت ہمارے پیار میں ہے
شاخ در شاخ ایک اداسی سی
اور یہ ظلم بھی بہار میں ہے
رہبروں کے عمل میں کچھ بھی نہیں
جو بھی نعرہ ہے اشتہار میں ہے
تو نے بخشا یہ مرتبہ یہ مقام
ورنہ اعجازؔ کس شمار میں ہے