وقت سحر اک ایسی اٹھی روشنی کہ بس
Tahir Hanfi (b. 1955)وقت سحر اک ایسی اٹھی روشنی کہ بس
جس آنکھ نے بھی دیکھا یوں چندھیا گئی کہ بس
جی بھر کے اس کے بعد کیا رقص موت نے
جاگے ہوؤں کو صبح کو نیند آ گئی کہ بس
وحشت مرے مزاج کا حصہ نہ بن سکی
پروائیاں سمیٹ کے کہنے لگی کہ بس
مجھ پہ کرم تو ہوتا رہا رب کا بار بار
با وصف اس کے شرم جو آتی رہی کہ بس
بالآخر اپنی آنکھوں سے جاری لہو ہوا
ہر سانحے پہ آنکھ یوں روتی رہی کہ بس
طاہرؔ لیا نہ بھول کے جینے کا نام بھی
ایسے بسر ہماری ہوئی زندگی کہ بس