مرے بدن پہ سجا ہے برہنگی کا لباس

Tahir Hanfi (b. 1955)

مرے بدن پہ سجا ہے برہنگی کا لباس

یہی لباس ہوا میری زندگی کا لباس

مرا یہ جرم کہ میری انا کے شانوں پر

پڑا ہوا ہے غم مرگ دوستی کا لباس

نہ مجھ کو خواہش ہستی نہ آس مرنے کی

کہ اب لبوں نے دکھایا ہے تشنگی کا لباس

فصیل شہر پہ میری صدا بھی روشن ہے

زمانہ پھینکنے والا ہے تیرگی کا لباس

وہ جسم و جاں کو چھپائے تو پھر بھی عریاں ہے

کہ میری آنکھ میں رقصاں ہے رہبری کا لباس

لہو کے رنگ کی سرخی بدن کی ویرانی

کس اہتمام سے لایا ہے آدمی کا لباس

یہ گرم سرد ہوائیں یہ آندھیاں طاہرؔ

کہ چاک چاک ہوا اب کے آگہی کا لباس