ہیرا ہے کہ شیشے کا جگر کاٹ رہا ہے

Ejaz Ansari (b. 1955)

ہیرا ہے کہ شیشے کا جگر کاٹ رہا ہے

بیٹے کی پڑھائی پہ کیا جس نے بہت خرچ

بیٹا اب اسی باپ کا سر کاٹ رہا ہے

حیرت ہے کہ اڑنا ابھی سیکھا نہیں جس نے

وہ بھی مرے بازو مرے پر کاٹ رہا ہے

دیکھوں تری جانب تو لرزتی ہیں نگاہیں

وحشت مجھے اتنی ہے کہ گھر کاٹ رہا ہے

وہ مجھ سے مخاطب ہے اس انداز میں اعجازؔ

جیسے کسی جادو کا اثر کاٹ رہا ہے