Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوںالجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھرParveen Shakir (1952–1994)
  2. تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیںاپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیںParveen Shakir (1952–1994)
  3. تیرے تحفے تو سب اچھے ہیں مگر موج بہاراب کے میرے لیے خوشبوئے حنا آئی ہوParveen Shakir (1952–1994)
  4. دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہحیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہParveen Shakir (1952–1994)
  5. رخصت کرنے کے آداب نبھانے ہی تھےبند آنکھوں سے اس کو جاتا دیکھ لیا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  6. رستہ میں مل گیا تو شریک سفر نہ جانجو چھاؤں مہرباں ہو اسے اپنا گھر نہ جانParveen Shakir (1952–1994)
  7. ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھہراخامشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرحParveen Shakir (1952–1994)
  8. ہاتھ میرے بھول بیٹھے دستکیں دینے کا فنبند مجھ پر جب سے اس کے گھر کا دروازہ ہواParveen Shakir (1952–1994)
  9. ہتھیلیوں کی دعا پھول بن کے آئی ہوکبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حنائی ہوParveen Shakir (1952–1994)
  10. یوں دیکھنا اس کو کہ کوئی اور نہ دیکھےانعام تو اچھا تھا مگر شرط کڑی تھیParveen Shakir (1952–1994)
  11. آپ اگر مہرباں نہیں ہوتےہم جہاں ہیں وہاں نہیں ہوتےFahmi Badayuni (b. 1952)
  12. آپ دیتے نہیں سزا کوئیکس بھروسے کریں خطا کوئیFahmi Badayuni (b. 1952)
  13. آخری بار دیکھنا ہے اسےپھر لگاتار دیکھنا ہے اسےFahmi Badayuni (b. 1952)
  14. اس سے اس کے بغیر باتیں کیںپھر بھی بولے بغیر باتیں کیںFahmi Badayuni (b. 1952)
  15. اس کے جیسا کوئی ملا ہی نہیںکیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
  16. اس نے کیا کیا نہیں دیا مجھ کوچین پھر بھی نہیں ملا مجھ کوFahmi Badayuni (b. 1952)
  17. ایک اگر پیمانہ ہوتامے خانہ مے خانہ ہوتاFahmi Badayuni (b. 1952)
  18. بس تمہارا مکاں دکھائی دیاجس میں سارا جہاں دکھائی دیاFahmi Badayuni (b. 1952)
  19. بہت دشوار ہے رستہ ہمارانہیں کر پاؤ گے پیچھا ہماراFahmi Badayuni (b. 1952)
  20. بھری محفل میں تنہا دیکھنا ہےاسے اس بار اتنا دیکھنا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
  21. پرندے سہمے سہمے اڑ رہے ہیںبرابر میں فرشتے اڑ رہے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
  22. پہلے احساس میں اتار اسےپھر خیالات سے گزار اسےFahmi Badayuni (b. 1952)
  23. تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیںکیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
  24. جاہلوں کو سلام کرنا ہےاور پھر جھوٹ موٹ ڈرنا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
  25. جب ریتیلے ہو جاتے ہیںپربت ٹیلے ہو جاتے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
  26. جو بنے گا وہی بنانا ہےکیا کریں چاک اسے گھمانا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
  27. جو لکھا ہے وہی پڑھا ہے ابھیاس کا پہلا ہی خط ملا ہے ابھیFahmi Badayuni (b. 1952)
  28. خدا کو بھولنا آسان ہےہمارا مسئلہ انسان ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
  29. خط لفافے میں غیر کا نکلااس کا قاصد بھی بے وفا نکلاFahmi Badayuni (b. 1952)
  30. ذرا محتاط ہونا چاہیے تھابغیر اشکوں کے رونا چاہیے تھاFahmi Badayuni (b. 1952)
  31. رات اس کو رلا دیا میں نےسب غموں کا مزہ لیا میں نےFahmi Badayuni (b. 1952)
  32. سانپ بھی بین بھی مداری بھیہائے کیا بات ہے تمہاری بھیFahmi Badayuni (b. 1952)
  33. سمندر الٹا سیدھا بولتا ہےسلیقے سے تو پیاسا بولتا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
  34. سہارے جانے پہچانے بنا لوںستونوں پر ترے شانے بنا لوںFahmi Badayuni (b. 1952)
  35. کبھی آواز دے اک بار کوئیاگر موجود ہے اس پار کوئیFahmi Badayuni (b. 1952)
  36. کوئی ملتا نہیں خدا کی طرحپھرتا رہتا ہوں میں دعا کی طرحFahmi Badayuni (b. 1952)
  37. لگتی نہیں ہے گرمی سردیپہن کے دیکھو قیس کی وردیFahmi Badayuni (b. 1952)
  38. موت کی سمت جان چلتی رہیزندگی کی دکان چلتی رہیFahmi Badayuni (b. 1952)
  39. نمک کی روز مالش کر رہے ہیںہمارے زخم ورزش کر رہے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
  40. نہیں ہو تم تو ایسا لگ رہا ہےکہ جیسے شہر میں کرفیو لگا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
  41. وفا داری غنیمت ہو گئی کیامحبت بھی مروت ہو گئی کیاFahmi Badayuni (b. 1952)
  42. وہ جو تمہاری مجبوری ہےوہی تو ساری مجبوری ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
  43. وہ کہاں ہے کتاب کے اندرجو لکھا تھا نصاب کے اندرFahmi Badayuni (b. 1952)
  44. وہ کہیں تھا کہیں دکھائی دیامیں جہاں تھا وہیں دکھائی دیاFahmi Badayuni (b. 1952)
  45. ہاتھ اس کے ہیں اور دعا میں ہوںیہ نہیں کہہ رہا خدا میں ہوںFahmi Badayuni (b. 1952)
  46. ہجر کی مات کاٹنے کے لئےکچھ تو ہو رات کاٹنے کے لئےFahmi Badayuni (b. 1952)
  47. ہم ترے غم کے پاس بیٹھے تھےدوسرے غم اداس بیٹھے تھےFahmi Badayuni (b. 1952)
  48. ہم تو روٹھے تھے آزمانے کوکئی آیا نہیں منانے کوFahmi Badayuni (b. 1952)
  49. ہم کو رستہ بتا کے لوٹ گئےہم سفر مسکرا کے لوٹ گئےFahmi Badayuni (b. 1952)
  50. ہم نے کھڑکی میں جاں بٹھا لی ہےاس کی آواز آنے والی ہےFahmi Badayuni (b. 1952)