ایک اگر پیمانہ ہوتا

Fahmi Badayuni (b. 1952)

ایک اگر پیمانہ ہوتا

مے خانہ مے خانہ ہوتا

گھر چاہے ویرانہ ہوتا

ان کا آنا جانا ہوتا

میں تو خود کو بھول گیا تھا

تم نے تو پہچانا ہوتا

آپ اگر ہنکارے دیتے

اور ہی کچھ افسانہ ہوتا

ہر لڑکی جو لیلی ہوتی

ہر لڑکا دیوانہ ہوتا

دونوں مل کر ہستی بنتے

عشق کا تانا بانا ہوتا

کاش تمہارے پاؤں کا موزہ

فہمیؔ کا دستانہ ہوتا