ہم کو رستہ بتا کے لوٹ گئے
Fahmi Badayuni (b. 1952)ہم کو رستہ بتا کے لوٹ گئے
ہم سفر مسکرا کے لوٹ گئے
وہ جو کہتے تھے گھر بنائیں گے
صرف نقشہ بنا کے لوٹ گئے
رات بھر آندھیاں چلیں گھر میں
تم تو پردے ہلا کے لوٹ گئے
نبض پر انگلیاں نہیں رکھیں
سب دوائیں بتا کے لوٹ گئے
جو خدا سے ملانے آئے تھے
وہ خدا سے ڈرا کے لوٹ گئے
ہونٹھ تو ہل رہے تھے رات ان کے
کیا پتہ کیا بتا کے لوٹ گئے