کبھی آواز دے اک بار کوئی

Fahmi Badayuni (b. 1952)

کبھی آواز دے اک بار کوئی

اگر موجود ہے اس پار کوئی

سکوں سے دن گزرتا ہے ہمارا

منگاتے ہی نہیں اخبار کوئی

یہاں دیر و حرم بننے سے پہلے

نہیں تھی آہنی دیوار کوئی

ہزاروں کام ہیں دشت جنوں میں

یہاں پھرتا نہیں بے کار کوئی

اب ایسے جرم بھی ہونے لگے ہیں

نہیں ہے جن کا ذمے دار کوئی

ہم اپنا اجنبی پن بھول جائیں

اگر پہچان لے اک بار کوئی

سنا ہے کل ترے کوچہ میں ہم نے

کتر دی ہاتھ سے تلوار کوئی