خط لفافے میں غیر کا نکلا

Fahmi Badayuni (b. 1952)

خط لفافے میں غیر کا نکلا

اس کا قاصد بھی بے وفا نکلا

جان میں جان آ گئی یارو

وہ کسی اور سے خفا نکلا

شعر ناظم نے جب پڑھا میرا

پہلا مصرعہ ہی دوسرا نکلا

پھر اسی قبر کے برابر سے

زندہ رہنے کا راستہ نکلا