جو لکھا ہے وہی پڑھا ہے ابھی

Fahmi Badayuni (b. 1952)

جو لکھا ہے وہی پڑھا ہے ابھی

اس کا پہلا ہی خط ملا ہے ابھی

کھا رہا ہے ابھی ترس مجھ پر

عشق اندھا نہیں ہوا ہے ابھی

بیٹھ جاتا ہوں اس کے در پہ کہیں

کوئی درجہ نہیں ملا ہے ابھی

میر و غالب کی زیر نگرانی

عشق پر کام چل رہا ہے ابھی

لفظ دل تک ابھی نہیں پہنچے

وہ نگاہوں سے سوچتا ہے ابھی

جیسے تیسے کسی پہ مرتا ہوں

زندگی نے جکڑ رکھا ہے ابھی

عشق ابھی جان تک نہیں پہنچا

خون سے کام چل رہا ہے ابھی