وہ جو تمہاری مجبوری ہے
Fahmi Badayuni (b. 1952)وہ جو تمہاری مجبوری ہے
وہی تو ساری مجبوری ہے
جو بھی تمہاری مجبوری ہے
پہلے ہماری مجبوری ہے
حسن تمہاری مجبوری ہے
عشق ہماری مجبوری ہے
ظل الٰہی رو نہیں سکتے
کچھ درباری مجبوری ہے
تصویروں سے باتیں کرنا
کتنی پیاری مجبوری ہے
چاند سے یارانہ ہے اپنا
شب بے داری مجبوری ہے
ہلکی باتیں کرتا ہے وہ
کوئی بھاری مجبوری ہے