جو بنے گا وہی بنانا ہے

Fahmi Badayuni (b. 1952)

جو بنے گا وہی بنانا ہے

کیا کریں چاک اسے گھمانا ہے

یہ مرا گھر ہے وہ زمانہ ہے

اب بتاؤ کدھر کو جانا ہے

پھول کالر پہ بس لگانا ہے

کتنا آسان مسکرانا ہے

جھولتی ہے کمان پر چڑیا

اور ترکش میں آشیانہ ہے

پڑ گئی ہے زبان الجھن میں

جو چھپانا ہے وہ بتانا ہے

ہم جہاں ہیں وہیں پہ ملتے ہیں

جو پتہ ہے وہی ٹھکانہ ہے

میں نے پتھر تو کر لیا خود کو

اب تری راہ سے ہٹانا ہے