ہم نے کھڑکی میں جاں بٹھا لی ہے

Fahmi Badayuni (b. 1952)

ہم نے کھڑکی میں جاں بٹھا لی ہے

اس کی آواز آنے والی ہے

ہم کو تالا نظر نہیں آتا

اس کے در پر نظر جما لی ہے

اب کسی بزم میں نہ بولیں گے

اس گلی میں صدا لگا لی ہے

رکھ دیے ہیں چراغ کھڑکی میں

اور گھر میں ہوا چلا لی ہے

ہم تو صیاد ہیں ہمارے لئے

تو ہی گلشن ہے تو ہی مالی ہے

مجھ سے ٹوٹی ہوئی چھتوں نے کہا

یار برسات آنے والی ہے

اس کے کوچے میں ناچ آئے ہیں

سارے دن کی تھکن مٹا لی ہے

پنجرے بنتے ہیں شہر میں میرے

اس لئے آسمان خالی ہے

خاک میں بھی ملائیں گے فی الحال

زندگی عشق میں ملا لی ہے