بھری محفل میں تنہا دیکھنا ہے
Fahmi Badayuni (b. 1952)بھری محفل میں تنہا دیکھنا ہے
اسے اس بار اتنا دیکھنا ہے
تری دنیا سے اب جانا پڑے گا
خدا والی بھی دنیا دیکھنا ہے
اداکاروں کے نخرے لوگ اٹھائیں
ہمیں تو بس تماشہ دیکھنا ہے
مری پہلی نظر لوٹا دے مجھ کو
تری جانب دوبارہ دیکھنا ہے
نیا کیا ہے مکاں سے لامکاں تک
وہی خود کو دکھانا دیکھنا ہے
مری دلچسپیاں پرواز میں ہیں
اسے پنجرے میں چڑیا دیکھنا ہے
کہاں پر کیوں بھٹک جاتا ہوں آخر
ترے کوچے کا نقشہ دیکھنا ہے
نہیں ملنا ہے کچھ نظریں اٹھا کر
ہمیں تو صرف رستہ دیکھنا ہے