Poetry
Poet
Meter
- یہاں یوں ہی نہیں پہنچا ہوں میںمسلسل رات دن دوڑا ہوں میںFahmi Badayuni (b. 1952)
- آپ تشریف لائے تھے اک روزدوسرے روز اعتبار ہواFahmi Badayuni (b. 1952)
- آج پیوند کی ضرورت ہےیہ سزا ہے رفو نہ کرنے کیFahmi Badayuni (b. 1952)
- اسے لے کر جو گاڑی جا چکی ہےمیں شاید اس کے نیچے آ رہا ہوںFahmi Badayuni (b. 1952)
- بدن کا ذکر باطل ہے تو آؤبنا سر پیر کی باتیں کریں گےFahmi Badayuni (b. 1952)
- پریشاں ہے وہ جھوٹا عشق کر کےوفا کرنے کی نوبت آ گئی ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- پوچھ لیتے وہ بس مزاج مراکتنا آسان تھا علاج مراFahmi Badayuni (b. 1952)
- ٹہلتے پھر رہے ہیں سارے گھر میںتری خالی جگہ کو بھر رہے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- جب تلک قوت تخیئل ہےآپ پہلو سے اٹھ نہیں سکتےFahmi Badayuni (b. 1952)
- جس کو ہر وقت دیکھتا ہوں میںاس کو بس ایک بار دیکھا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- جو کہا وہ نہیں کیا اس نےوہ کیا جو نہیں کہا اس نےFahmi Badayuni (b. 1952)
- چھت کا حال بتا دیتا ہےپرنالے سے گرتا پانیFahmi Badayuni (b. 1952)
- خوشی سے کانپ رہی تھیں یہ انگلیاں اتنیڈلیٹ ہو گیا اک شخص سیو کرنے میںFahmi Badayuni (b. 1952)
- خوں پلا کر جو شیر پالا تھااس نے سرکس میں نوکری کر لیFahmi Badayuni (b. 1952)
- سخت مشکل تھا امتحان غزلمیرؔ کی نقل کر کے پاس ہوئےFahmi Badayuni (b. 1952)
- شہسواروں نے روشنی مانگیمیں نے بیساکھیاں جلا ڈالیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- کچھ نہ کچھ بولتے رہو ہم سےچپ رہو گے تو لوگ سن لیں گےFahmi Badayuni (b. 1952)
- لیلیٰ گھر میں سلائی کرنے لگیقیس دلی میں کام کرنے لگاFahmi Badayuni (b. 1952)
- مر گیا ہم کو ڈانٹنے والااب شرارت میں جی نہیں لگتاFahmi Badayuni (b. 1952)
- میں تو رہتا ہوں دشت میں مصروفقیس کرتا ہے کام کاج مراFahmi Badayuni (b. 1952)
- میں نے اس کی طرف سے خط لکھااور اپنے پتے پہ بھیج دیاFahmi Badayuni (b. 1952)
- الاماں کہ سورج ہے میری جان کے پیچھےاور سانپ بیٹھا ہے سائبان کے پیچھےYaqoob Yawar (b. 1952)
- جو تو نہیں تو موسم ملال بھی نہ آئے گاگئے دنوں کے بعد عہد حال بھی نہ آئے گاYaqoob Yawar (b. 1952)
- روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھیپھر بھی سورج سے مری ہم سفری رہنا تھیYaqoob Yawar (b. 1952)
- سخن کو بے حسی کی قید سے باہر نکالوںتمہاری دید کا کوئی نیا منظر نکالوںYaqoob Yawar (b. 1952)
- شہر سخن عجیب ہو گیا ہےناقد یہاں ادیب ہو گیا ہےYaqoob Yawar (b. 1952)
- لرزاں ترساں منظر چپآرمیدہ گھر گھر چپYaqoob Yawar (b. 1952)
- مری دعاؤں کی سب نغمگی تمام ہوئیسحر تو ہو نہ سکی اور پھر سے شام ہوئیYaqoob Yawar (b. 1952)
- مسئلوں کی بھیڑ میں انساں کو تنہا کر دیاارتقا نے زندگی کا زخم گہرا کر دیاYaqoob Yawar (b. 1952)
- ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیےسفر میں تھے سفر کا اعتبار لے کے چل دیےYaqoob Yawar (b. 1952)
- آنکھ لگتی بھی نہیں ہے کہ جگا دیتا ہےکوئی دروازے کی زنجیر ہلا دیتا ہےZaheer Alam (b. 1952)
- ایسے ویسوں کو یہاں ہم نہیں گنتے صاحبآپ اچھے ہیں بہت اچھے ہیں ہوں گے صاحبZaheer Alam (b. 1952)
- پاؤں سے نکلی زمیں تو لاپتا ہو جاؤ گےتم ہوا میں مت اڑو ورنہ ہوا ہو جاؤ گےZaheer Alam (b. 1952)
- دشمن کے راستوں کا بھی پتھر ہٹائیں گےہم چلتے پھرتے راہ میں نیکی کمائیں گےZaheer Alam (b. 1952)
- مقدس درس گاہوں کی حرم کی اور شوالوں کیاندھیرے میں قسم کھاتی ہے یہ دنیا اجالوں کیZaheer Alam (b. 1952)
- اے انس خلیفہ ہے تو خاقان نہیں ہےتو میزباں ہے ارض پہ مہمان نہیں ہےB.M Khan Maley (b. 1952)
- سوچتا ہوں کہ کیا کیا اب تکجیتے رہنے سے کیا ملا اب تکB.M Khan Maley (b. 1952)
- کوئی کیا جانے کون بہتر ہےیہ تو انسان کا مقدر ہےB.M Khan Maley (b. 1952)
- محفل میں جانے کیسے سر عام آ گیاآخر زباں پہ اس کے مرا نام آ گیاB.M Khan Maley (b. 1952)
- پریشاں ہے ستم گر حوصلہ گم ہو گیا ہےگلوں میں خنجر دست جفا گم ہو گیا ہےRafi Sirsivi (1952–2019)
- جب خنجر قاتل سے نہ انکار ہوا چپآخر مرے ہاتھوں کا طلب گار ہوا چپRafi Sirsivi (1952–2019)
- زمیں کی خاک کو خاک شفا بناتے ہوئےسناں تک آ گئے انسانیت بچاتے ہوئےRafi Sirsivi (1952–2019)
- وہ سونے چاندی نہ شیشے کے گھر میں رہتا ہےمگر ہمارے دل معتبر میں رہتا ہےRafi Sirsivi (1952–2019)
- اپنی پلکوں سے جو ٹوٹے ہیں گہر دیکھتے ہیںہم دعا مانگتے ہیں اور اثر دیکھتے ہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
- اس کی آنکھوں میں اک سوال سا تھامیرے دل میں کوئی ملال سا تھاMah Talat Zahidi (1953–2020)
- اک پرندہ سر دیوار بھی باقی نہ رہااب تو پرواز کا دیدار بھی باقی نہ رہاMah Talat Zahidi (1953–2020)
- بے کہے بے سنے خدا حافظجو بھی گزرے اسے خدا حافظMah Talat Zahidi (1953–2020)
- تم بن وقت یہ کیسا گزرااشکوں کا اک دریا گزراMah Talat Zahidi (1953–2020)
- قبر پہ پھول کھلا آہستہزخم سے خون بہا آہستہMah Talat Zahidi (1953–2020)
- وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتادل ڈوب چلا صبح کا تارا نہیں ملتاMah Talat Zahidi (1953–2020)