Poetry
Poet
Meter
- وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گامسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گاParveen Shakir (1952–1994)
- وہ مجبوری نہیں تھی یہ اداکاری نہیں ہےمگر دونوں طرف پہلی سی سرشاری نہیں ہےParveen Shakir (1952–1994)
- وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتاتری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتاParveen Shakir (1952–1994)
- ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیااس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیاParveen Shakir (1952–1994)
- ہوا مہک اٹھی رنگ چمن بدلنے لگاوہ میرے سامنے جب پیرہن بدلنے لگاParveen Shakir (1952–1994)
- ہوائے تازہ میں پھر جسم و جاں بسانے کادریچہ کھولیں کہ ہے وقت اس کے آنے کاParveen Shakir (1952–1994)
- آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گیرات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھیParveen Shakir (1952–1994)
- اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم درازسوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگاParveen Shakir (1952–1994)
- اپنے سرد کمرے میںمیں اداس بیٹھی ہوںParveen Shakir (1952–1994)
- اس عمر کے بعد اس کو دیکھا!آنکھوں میں سوال تھے ہزاروںParveen Shakir (1952–1994)
- ''پتھر کی زباں'' کی شاعرہ نےاک محفل شعر و شاعری میںParveen Shakir (1952–1994)
- تم مجھ کو گڑیا کہتے ہوٹھیک ہی کہتے ہو!Parveen Shakir (1952–1994)
- جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہیہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتےParveen Shakir (1952–1994)
- سبز مدھم روشنی میں سرخ آنچل کی دھنکسرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہکParveen Shakir (1952–1994)
- سنگ مرمر کی خنک بانہوں میںحسن خوابیدہ کے آگے مری آنکھیں شل ہیںParveen Shakir (1952–1994)
- کچا سا اک مکاں کہیں آبادیوں سے دورچھوٹا سا ایک حجرہ فراز مکان پرParveen Shakir (1952–1994)
- گرچہ لکھی ہوئی تھی شہادت امام کیلیکن میرے حسین نے حجت تمام کیParveen Shakir (1952–1994)
- گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھاچاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھاParveen Shakir (1952–1994)
- لڑکی سر کو جھکائے بیٹھیکافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہےParveen Shakir (1952–1994)
- ننھی لڑکیساحل کے اتنے نزدیکParveen Shakir (1952–1994)
- وہ باغ میں میرا منتظر تھااور چاند طلوع ہو رہا تھاParveen Shakir (1952–1994)
- آنکھ بوجھل ہےمگر نیند نہیں آتی ہےParveen Shakir (1952–1994)
- اپنی پندار کی کرچیاںچن سکوں گیParveen Shakir (1952–1994)
- میں کیوں اس کو فون کروں!اس کے بھی تو علم میں ہوگاParveen Shakir (1952–1994)
- ابھی میں نے دہلیز پر پاؤں رکھا ہی تھا کہکسی نے مرے سر پہ پھولوں بھرا تھال الٹا دیاParveen Shakir (1952–1994)
- اپنے فون پہ اپنا نمبربار بار ڈائل کرتی ہوںParveen Shakir (1952–1994)
- اس نے میرے ہاتھ میں باندھااجلا کنگن بیلے کاParveen Shakir (1952–1994)
- اندیشوں کے دروازوں پرکوئی نشان لگاتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- تمہارا کہنا ہےتم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہوParveen Shakir (1952–1994)
- جانمجھے افسوس ہےParveen Shakir (1952–1994)
- دل آزاری بھی اک فن ہےاور کچھ لوگ توParveen Shakir (1952–1994)
- رت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہاآج سے تم آزاد ہوParveen Shakir (1952–1994)
- سات سہاگنیں اور میری پیشانی!صندل کی تحریرParveen Shakir (1952–1994)
- سو اب یہ شرط حیات ٹھہریکہ شہر کے سب نجیب افرادParveen Shakir (1952–1994)
- کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاںنرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئیParveen Shakir (1952–1994)
- گڑیا سی یہ لڑکیجس کی اجلی ہنسی سےParveen Shakir (1952–1994)
- گہری بھوری آنکھوں والا اک شہزادہدور دیس سےParveen Shakir (1952–1994)
- لڑکی!یہ لمحے بادل ہیںParveen Shakir (1952–1994)
- مجھے مت بتاناکہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھاParveen Shakir (1952–1994)
- مجھے معلوم تھایہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- مصاحب شاہ سے کہو کہفقیہہ اعظم بھی آج تصدیق کر گئے ہیںParveen Shakir (1952–1994)
- میں نے ساری عمرکسی مندر میں قدم نہیں رکھاParveen Shakir (1952–1994)
- نہیں میرا آنچل میلا ہےاور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیںParveen Shakir (1952–1994)
- وہ ایک لڑکیکہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوںParveen Shakir (1952–1994)
- وہی نرم لہجہجو اتنا ملائم ہے جیسےParveen Shakir (1952–1994)
- اس کے یوں ترک محبت کا سبب ہوگا کوئیجی نہیں یہ مانتا وہ بے وفا پہلے سے تھاParveen Shakir (1952–1994)
- اس نے مجھے دراصل کبھی چاہا ہی نہیں تھاخود کو دے کر یہ بھی دھوکا، دیکھ لیا ہےParveen Shakir (1952–1994)
- بارہا تیرا انتظار کیااپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرحParveen Shakir (1952–1994)
- بہت سے لوگ تھے مہمان میرے گھر لیکنوہ جانتا تھا کہ ہے اہتمام کس کے لئےParveen Shakir (1952–1994)
- پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہےپھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرحParveen Shakir (1952–1994)