اس کے جیسا کوئی ملا ہی نہیں

Fahmi Badayuni (b. 1952)

اس کے جیسا کوئی ملا ہی نہیں

کیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیں

گھر کے ملبے سے گھر بنا ہی نہیں

زلزلے کا اثر گیا ہی نہیں

وہ جہاں تک دکھائی دیتا ہے

اس کے آگے میں دیکھتا ہی نہیں

اچھے اچھوں نے راستہ مانگا

میں تری راہ سے ہٹا ہی نہیں

سارے کردار ہو گئے خوددار

پھر کہانی میں کچھ ہوا ہی نہیں

یاد ہے جو اسی کو یاد کرو

ہجر کی دوسری دوا ہی نہیں

تیرے بارے میں سوچنے والا

اپنے بارے میں سوچتا ہی نہیں