ہم تو روٹھے تھے آزمانے کو
Fahmi Badayuni (b. 1952)ہم تو روٹھے تھے آزمانے کو
کئی آیا نہیں منانے کو
جانے کیا بیر ہے زمانے کو
پھل سمجھتا ہے آشیانے کو
پارساؤں نے غور سے دیکھا
چلتے پھرتے شراب خانے کو
صحن کی خاک بام کے تنکے
کچھ تو دے دو دوا بنانے کو
اور کتنا بلند ہو جاؤں
تیری چوکھٹ پہ سر جھکانے کو
کیا ستم ہے کہ مار کر پتھر
بھول جاتا ہے وہ نشانے کو
اس نے پر بھی مرے نہیں کترے
میں تو راضی تھا پھڑپھڑانے کو
ہم بڑی دور چل کے آئے ہیں
پاؤں اک شخص کے دبانے کو