اس نے کیا کیا نہیں دیا مجھ کو

Fahmi Badayuni (b. 1952)

اس نے کیا کیا نہیں دیا مجھ کو

چین پھر بھی نہیں ملا مجھ کو

کل شب ہجر شرمسار ہوئی

تو نہیں ہے نہیں لگا مجھ کو

اب کتابوں سے کچھ نہیں ہو گا

مار ڈالے گا تجربہ مجھ کو

سوچتا ہوں کہ اب کہاں جاؤں

تو بھی پاگل نہ کر سکا مجھ کو

مجھ سے آگے نہیں نکل سکتا

وہ نہیں دے گا راستہ مجھ کو

میں جو بڑھتا ہوں سر ورق کی طرف

کھینچ لیتا ہے حاشیہ مجھ کو

میں چھپا رہتا زندگی میں اور

تو کہیں اور ڈھونڈتا مجھ کو

میں وہی شور لکھتا رہتا ہوں

جس نے خاموش کر دیا مجھ کو