ہاتھ اس کے ہیں اور دعا میں ہوں
Fahmi Badayuni (b. 1952)ہاتھ اس کے ہیں اور دعا میں ہوں
یہ نہیں کہہ رہا خدا میں ہوں
اچھا تو رات تم تھے پہلو میں
میں نے سمجھا کہ دوسرا میں ہوں
کوئی رہبر ہو کوئی رہزن ہو
قافلہ وہ ہے راستہ میں ہوں
کاروبار سکون جاری ہے
چھینتا وہ ہے مانگتا میں ہوں
سارے دریا اسی کی جانب ہیں
تیرتا وہ ہے ڈوبتا میں ہوں
بھیڑ لگ جاتی ہے مریضوں کی
چارہ گر وہ ہے اور دوا میں ہوں
تار ایسے جڑے ہیں آنکھوں کے
سوچتا وہ ہے بولتا میں ہوں
چھپ رہی ہے ابھی کتاب دل
سر ورق وہ ہے حاشیہ میں ہوں