Poetry
Poet
Meter
- شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہےسو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- مرے عزیز ہی مجھ کو سمجھ نہ پائے کبھیمیں اپنا حال کسی اجنبی سے کیا کہتاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- اب کسی سے بھی کسی کا نہیں رشتہ شایدچند لمحوں کی ہے مہمان یہ دنیا شایدQamar Iqbal (1944–1988)
- اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنادل ہو زخمی بھی تو ہونٹوں پہ تبسم رکھناQamar Iqbal (1944–1988)
- ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤتیرے لہجے میں ہے کس جوئے رواں کا ٹھہراؤQamar Iqbal (1944–1988)
- ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریںایک دیوار کے پیچھے ہیں کئی دیواریںQamar Iqbal (1944–1988)
- بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیںسفر میں جیسے کوئی اپنے ساتھ تھا ہی نہیںQamar Iqbal (1944–1988)
- جو پڑ گئی تھی گرہ دل میں کھولتے ہم بھیوہ بات کرتا تو کچھ اس سے بولتے ہم بھیQamar Iqbal (1944–1988)
- جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوںچہرے بدل بدل کے پریشان میں بھی ہوںQamar Iqbal (1944–1988)
- خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوںقرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوںQamar Iqbal (1944–1988)
- دماغ ڈوبتے مہتاب سا لگے ہے مجھےکروں جو یاد تو سب خواب سا لگے ہے مجھےQamar Iqbal (1944–1988)
- دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگاموند لی جب آنکھ تو سینے سے کوئی آ لگاQamar Iqbal (1944–1988)
- سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگاموم کے شہر سے سورج کا گزر کب ہوگاQamar Iqbal (1944–1988)
- کہیں یہ درد کا دھاگا بھی یوں سلجھتا ہےگرہ جو کھولیں تو دل اور بھی الجھتا ہےQamar Iqbal (1944–1988)
- ہر خوشی مقبروں پہ لکھ دی ہےاور اداسی گھروں پہ لکھ دی ہےQamar Iqbal (1944–1988)
- ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہےلڑکی ہے کہ ترشے ہوئے ہیروں کی لڑی ہےQamar Iqbal (1944–1988)
- یاد موسم وہ پرانے آئےزخم ہنسنے کے زمانے آئےQamar Iqbal (1944–1988)
- یوں قید ہم ہوئے کہ ہوا کو ترس گئےاپنے ہی کان اپنی صدا کو ترس گئےQamar Iqbal (1944–1988)
- یہ دل کشی تری آنکھوں میں کس غزال کی ہےاتار دی ہے ہر اک پیڑ نے قبا اپنیQamar Iqbal (1944–1988)
- یہ شہر دل جو کوئی شہر آرزو بھی نہیںبھٹک رہے ہیں مگر تیری جستجو بھی نہیںQamar Iqbal (1944–1988)
- آنکھ کیا غم میں ترے نم سی ہوئی جاتی ہےزندگی شعلہ تھی شبنم سی ہوئی جاتی ہےZafar Sambhali (b. 1944)
- اس کے غم میں حیات بھول گئےرونق کائنات بھول گئےZafar Sambhali (b. 1944)
- بھول جاؤں تجھے ایسی کوئی تدبیر نہیںاور پا لوں تجھے ایسی مری تقدیر نہیںZafar Sambhali (b. 1944)
- بے وفا سے گلا کیا نہ گیالطف غم بے مزہ کیا نہ گیاZafar Sambhali (b. 1944)
- جانے شب فراق میں کیا یاد آ گیادل یوں تڑپ اٹھا کہ خدا یاد آ گیاZafar Sambhali (b. 1944)
- جب مری سمت حسیں یادوں کے پتھر برسےخیر مقدم کو چلے اشک بھی چشم تر سےZafar Sambhali (b. 1944)
- غیر کا وہ ہو گیا اچھا ہوااپنے حق میں جو ہوا اچھا ہواZafar Sambhali (b. 1944)
- کتنا ظالم مری چاہت کا مقدر نکلامیں جسے آئنہ سمجھا تھا وہ پتھر نکلاZafar Sambhali (b. 1944)
- کسی کی یاد میں مثل چراغ رہ گزر تنہاگزاری ہے شب غم ہم نے اکثر جاگ کر تنہاZafar Sambhali (b. 1944)
- کیسے کہہ دوں مجھ کو تنہائی میں یاد آتا ہے کونراز کی یہ بات ہے اور راز بتلاتا ہے کونZafar Sambhali (b. 1944)
- گیسوؤں کے اسیر ہیں ہم بھیقصۂ دل پذیر ہیں ہم بھیZafar Sambhali (b. 1944)
- مری نظر میں تو لفظ الفت خزاں بھی ہے اور بہار بھی ہےیہ راس آئے تو پھول بھی ہے نہ راس آئے تو خار بھی ہےZafar Sambhali (b. 1944)
- نشہ ہے تیری نگاہوں میں شرابوں کی طرحلوگ سرشار ہیں بے خود ہیں خرابوں کی طرحZafar Sambhali (b. 1944)
- ہم نے دیکھے تھے کبھی خواب سہانے کیا کیایاد آتے ہیں وہی گزرے زمانے کیا کیاZafar Sambhali (b. 1944)
- ہمیں تو خوابوں کی وادیوں میں حیات کو ہے تمام کرناتمہاری یادوں میں صبح کرنا تمہاری یادوں میں شام کرناZafar Sambhali (b. 1944)
- اب کے برس پھاگن میں کسی سے ایسی کھیلی ہولی سکھیپریت کے پکے رنگ سے جس نے رنگ دی من کی چولی سکھیZafar Sambhali (b. 1944)
- جب مرے نام ترے پیار کا خط آتا ہےچند لمحوں کو غم ہجر بھی مٹ جاتا ہےZafar Sambhali (b. 1944)
- لو پھر افق پہ آیا نظر عید کا ہلالپھر یاد آیا مجھ کو کوئی پیکر جمالZafar Sambhali (b. 1944)
- اک ترا تصور ہی آخری سہارا ہےورنہ دل کا آئینہ کب سے پارہ پارہ ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- بقعۂ نور ہر اک راہ گزر ہو جائےوہ مری رات سے گزرے تو سحر ہو جائےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- تری محفل سے جو اٹھ جائیں گے مہر و وفا والےتو پوچھے گا تجھے پھر کون اے جور و جفا والےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- سحر یہ ندی ہے آنسوؤں کی نہ پوچھ اس کا بہاؤ پیارےکہ اس کے طوفان موج غم میں بچے گی کیا دل کی ناؤ پیارےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- سینے میں ارمان کی گنگا آنکھوں میں جمنا کا ہے جللیکن دل کے تاج محل میں کوئی نہیں ممتاز محلBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- شراب ارغوانی خم میں رکھی تھی نہ مینے میںیہ کس کا خون ہے ساقی بتا اس آبگینے میںBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- ضرب تازہ کاری ہے حادثہ پرانا ہےسنگ نو کے نرغے میں پھر وہی دوانہ ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتےمکین دل مکاں کو اس طرح ڈھایا نہیں کرتےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- کھولے ہوئے گیسو ہو پریشان لگو ہواس دل کی طرح تم بھی مری جان لگو ہوBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- مری خطا سے بڑی تیری درگزر ہوگیتو پھر دعا مری کاہے کو بے اثر ہوگیBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- مرے درد کی کہانی ترے جور کا فسانہہے لہو ترنگ نغمہ یہ نشاط گیں ترانہBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- مرے ہر نفس میں بسا ہے تو مرے فکر و فن میں قیام ہےکہ کتاب دل کے ورق ورق میں لکھا ہوا ترا نام ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)