Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہےسو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  2. مرے عزیز ہی مجھ کو سمجھ نہ پائے کبھیمیں اپنا حال کسی اجنبی سے کیا کہتاEhtisham Akhtar (b. 1944)
  3. اب کسی سے بھی کسی کا نہیں رشتہ شایدچند لمحوں کی ہے مہمان یہ دنیا شایدQamar Iqbal (1944–1988)
  4. اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنادل ہو زخمی بھی تو ہونٹوں پہ تبسم رکھناQamar Iqbal (1944–1988)
  5. ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤتیرے لہجے میں ہے کس جوئے رواں کا ٹھہراؤQamar Iqbal (1944–1988)
  6. ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریںایک دیوار کے پیچھے ہیں کئی دیواریںQamar Iqbal (1944–1988)
  7. بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیںسفر میں جیسے کوئی اپنے ساتھ تھا ہی نہیںQamar Iqbal (1944–1988)
  8. جو پڑ گئی تھی گرہ دل میں کھولتے ہم بھیوہ بات کرتا تو کچھ اس سے بولتے ہم بھیQamar Iqbal (1944–1988)
  9. جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوںچہرے بدل بدل کے پریشان میں بھی ہوںQamar Iqbal (1944–1988)
  10. خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوںقرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوںQamar Iqbal (1944–1988)
  11. دماغ ڈوبتے مہتاب سا لگے ہے مجھےکروں جو یاد تو سب خواب سا لگے ہے مجھےQamar Iqbal (1944–1988)
  12. دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگاموند لی جب آنکھ تو سینے سے کوئی آ لگاQamar Iqbal (1944–1988)
  13. سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگاموم کے شہر سے سورج کا گزر کب ہوگاQamar Iqbal (1944–1988)
  14. کہیں یہ درد کا دھاگا بھی یوں سلجھتا ہےگرہ جو کھولیں تو دل اور بھی الجھتا ہےQamar Iqbal (1944–1988)
  15. ہر خوشی مقبروں پہ لکھ دی ہےاور اداسی گھروں پہ لکھ دی ہےQamar Iqbal (1944–1988)
  16. ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہےلڑکی ہے کہ ترشے ہوئے ہیروں کی لڑی ہےQamar Iqbal (1944–1988)
  17. یاد موسم وہ پرانے آئےزخم ہنسنے کے زمانے آئےQamar Iqbal (1944–1988)
  18. یوں قید ہم ہوئے کہ ہوا کو ترس گئےاپنے ہی کان اپنی صدا کو ترس گئےQamar Iqbal (1944–1988)
  19. یہ دل کشی تری آنکھوں میں کس غزال کی ہےاتار دی ہے ہر اک پیڑ نے قبا اپنیQamar Iqbal (1944–1988)
  20. یہ شہر دل جو کوئی شہر آرزو بھی نہیںبھٹک رہے ہیں مگر تیری جستجو بھی نہیںQamar Iqbal (1944–1988)
  21. آنکھ کیا غم میں ترے نم سی ہوئی جاتی ہےزندگی شعلہ تھی شبنم سی ہوئی جاتی ہےZafar Sambhali (b. 1944)
  22. اس کے غم میں حیات بھول گئےرونق کائنات بھول گئےZafar Sambhali (b. 1944)
  23. بھول جاؤں تجھے ایسی کوئی تدبیر نہیںاور پا لوں تجھے ایسی مری تقدیر نہیںZafar Sambhali (b. 1944)
  24. بے وفا سے گلا کیا نہ گیالطف غم بے مزہ کیا نہ گیاZafar Sambhali (b. 1944)
  25. جانے شب فراق میں کیا یاد آ گیادل یوں تڑپ اٹھا کہ خدا یاد آ گیاZafar Sambhali (b. 1944)
  26. جب مری سمت حسیں یادوں کے پتھر برسےخیر مقدم کو چلے اشک بھی چشم تر سےZafar Sambhali (b. 1944)
  27. غیر کا وہ ہو گیا اچھا ہوااپنے حق میں جو ہوا اچھا ہواZafar Sambhali (b. 1944)
  28. کتنا ظالم مری چاہت کا مقدر نکلامیں جسے آئنہ سمجھا تھا وہ پتھر نکلاZafar Sambhali (b. 1944)
  29. کسی کی یاد میں مثل چراغ رہ گزر تنہاگزاری ہے شب غم ہم نے اکثر جاگ کر تنہاZafar Sambhali (b. 1944)
  30. کیسے کہہ دوں مجھ کو تنہائی میں یاد آتا ہے کونراز کی یہ بات ہے اور راز بتلاتا ہے کونZafar Sambhali (b. 1944)
  31. گیسوؤں کے اسیر ہیں ہم بھیقصۂ دل پذیر ہیں ہم بھیZafar Sambhali (b. 1944)
  32. مری نظر میں تو لفظ الفت خزاں بھی ہے اور بہار بھی ہےیہ راس آئے تو پھول بھی ہے نہ راس آئے تو خار بھی ہےZafar Sambhali (b. 1944)
  33. نشہ ہے تیری نگاہوں میں شرابوں کی طرحلوگ سرشار ہیں بے خود ہیں خرابوں کی طرحZafar Sambhali (b. 1944)
  34. ہم نے دیکھے تھے کبھی خواب سہانے کیا کیایاد آتے ہیں وہی گزرے زمانے کیا کیاZafar Sambhali (b. 1944)
  35. ہمیں تو خوابوں کی وادیوں میں حیات کو ہے تمام کرناتمہاری یادوں میں صبح کرنا تمہاری یادوں میں شام کرناZafar Sambhali (b. 1944)
  36. اب کے برس پھاگن میں کسی سے ایسی کھیلی ہولی سکھیپریت کے پکے رنگ سے جس نے رنگ دی من کی چولی سکھیZafar Sambhali (b. 1944)
  37. جب مرے نام ترے پیار کا خط آتا ہےچند لمحوں کو غم ہجر بھی مٹ جاتا ہےZafar Sambhali (b. 1944)
  38. لو پھر افق پہ آیا نظر عید کا ہلالپھر یاد آیا مجھ کو کوئی پیکر جمالZafar Sambhali (b. 1944)
  39. اک ترا تصور ہی آخری سہارا ہےورنہ دل کا آئینہ کب سے پارہ پارہ ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  40. بقعۂ نور ہر اک راہ گزر ہو جائےوہ مری رات سے گزرے تو سحر ہو جائےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  41. تری محفل سے جو اٹھ جائیں گے مہر و وفا والےتو پوچھے گا تجھے پھر کون اے جور و جفا والےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  42. سحر یہ ندی ہے آنسوؤں کی نہ پوچھ اس کا بہاؤ پیارےکہ اس کے طوفان موج غم میں بچے گی کیا دل کی ناؤ پیارےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  43. سینے میں ارمان کی گنگا آنکھوں میں جمنا کا ہے جللیکن دل کے تاج محل میں کوئی نہیں ممتاز محلBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  44. شراب ارغوانی خم میں رکھی تھی نہ مینے میںیہ کس کا خون ہے ساقی بتا اس آبگینے میںBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  45. ضرب تازہ کاری ہے حادثہ پرانا ہےسنگ نو کے نرغے میں پھر وہی دوانہ ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  46. کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتےمکین دل مکاں کو اس طرح ڈھایا نہیں کرتےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  47. کھولے ہوئے گیسو ہو پریشان لگو ہواس دل کی طرح تم بھی مری جان لگو ہوBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  48. مری خطا سے بڑی تیری درگزر ہوگیتو پھر دعا مری کاہے کو بے اثر ہوگیBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  49. مرے درد کی کہانی ترے جور کا فسانہہے لہو ترنگ نغمہ یہ نشاط گیں ترانہBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
  50. مرے ہر نفس میں بسا ہے تو مرے فکر و فن میں قیام ہےکہ کتاب دل کے ورق ورق میں لکھا ہوا ترا نام ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)