اب کسی سے بھی کسی کا نہیں رشتہ شاید

Qamar Iqbal (1944–1988)

اب کسی سے بھی کسی کا نہیں رشتہ شاید

چند لمحوں کی ہے مہمان یہ دنیا شاید

لاؤں ماضی کو گواہی کے لیے اب کیسے

آئنہ بھول گیا ہے مرا چہرہ شاید

یہ بھنور ہے کہ دہن کھول رہا ہے دریا

صرف میں ہی نہیں پانی بھی ہے پیاسا شاید

شہر اب شہر خموشاں کی طرح لگتا ہے

چہرہ چہرہ ہے یہاں جسم کا کتبہ شاید

چاند ہر رات ابھرتا ہے اسی جانب سے

راستہ دیکھ رہا ہے وہ دریچہ شاید

تیر جلتی ہوئی کرنوں کے قمرؔ آتے ہیں

اب بہت پاس ہے سورج کا جزیرہ شاید