شراب ارغوانی خم میں رکھی تھی نہ مینے میں
Badiuzzaman Sahar (b. 1944)شراب ارغوانی خم میں رکھی تھی نہ مینے میں
یہ کس کا خون ہے ساقی بتا اس آبگینے میں
لنڈھاتے پھرتے ہو تم روز پیمانے پہ پیمانہ
ہمیں شبنم بڑھا دیتے ہو ساون کے مہینے میں
ہماری بادہ خواری پر اب ان کو بھی شکایت ہے
کٹی ہے عمر جن کی آدمی کا خون پینے میں
ادھر کچھ دوریوں کا سلسلہ بڑھتا رہا ہم سے
ادھر کچھ فاصلے کم ہو گئے ہیں مرنے جینے میں
دکھائیں کس کو جا کے ہم شکستہ تار پیراہن
لگے ہیں سب یہاں اپنی قبا کے چاک سینے میں
صبا خوشبو کی طالب ہے تو مل مشکیں کمندوں سے
کہیں عنبر کی بو ہوتی ہے مردوں کی پسینے میں
سکوں کے دن گزر جائیں گے اک دن اہل ساحل کے
ہم اہل موج وہ طوفان لائیں گے سفینے میں
سحرؔ منصب ہمارا بھی ریاکاری اگر ہوتا
تو ہم بھی شیخ کے شامل نظر آتے مدینے میں