آنکھ کیا غم میں ترے نم سی ہوئی جاتی ہے

Zafar Sambhali (b. 1944)

آنکھ کیا غم میں ترے نم سی ہوئی جاتی ہے

زندگی شعلہ تھی شبنم سی ہوئی جاتی ہے

بدلے بدلے وہ نظر آنے لگے ہیں جب سے

ان کو پانے کی طلب کم سی ہوئی جاتی ہے

کیا محبت ہے یہی جب سے تجھے دیکھا ہے

اک خلش سینے میں پیہم سی ہوئی جاتی ہے

جب سے اس دل کو غم یار ملا ہے یارو

زندگی اور بھی محکم سی ہوئی جاتی ہے

آج پھر دل نے لیا ہے تری یادوں کا اثر

آج پھر آنکھ مری نم سی ہوئی جاتی ہے

میرے ہاتھوں نے سکھایا تھا سنورنا جس کو

آج وہ زلف بھی برہم سی ہوئی جاتی ہے

جب سے وہ میرے تصور میں لگے ہیں آنے

میری ہر شام شب غم سی ہوئی جاتی ہے

جب سے الفت کا اثر ہونے لگا ہے اس پر

اس کی حالت بھی ظفرؔ ہم سی ہوئی جاتی ہے