اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنا
Qamar Iqbal (1944–1988)اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنا
دل ہو زخمی بھی تو ہونٹوں پہ تبسم رکھنا
اور زخموں کا اضافہ ہی سہی جب بھی ملیں
تو مگر اپنا یہی طرز تکلم رکھنا
میرے اذکار کا رشتہ تری آواز سے ہے
میرے گہنوں کے لیے اپنا ترنم رکھنا
تو نے کیوں مجھ سے بچھڑتے ہوئے یہ بات کہی
خود کو تنہا نہ بچھڑنے پہ کبھی تم رکھنا
آج جینا بھی قمرؔ ایک اداکاری ہے
شہر کے شور میں تم خود کو نہ گم صم رکھنا