کیسے کہہ دوں مجھ کو تنہائی میں یاد آتا ہے کون

Zafar Sambhali (b. 1944)

کیسے کہہ دوں مجھ کو تنہائی میں یاد آتا ہے کون

راز کی یہ بات ہے اور راز بتلاتا ہے کون

رونے والے کیا ترے دل میں بھی ہے میرا سا غم

یوں کسی کے غم کو سن کر اشک بھر لاتا ہے کون

حسن ہے مغرور تو یہ اہل دل کی ہے خطا

اک جھلک میں حسن کا دیوانہ بن جاتا ہے کون

دوسروں کو کہنے والا آدمی ہے خود برا

لیکن اپنے ظرف کو آئینہ دکھلاتا ہے کون

کون چشم حسن سے پینا نہ چاہے ہے شراب

عشق مانا ہے مصیبت پھر بھی گھبراتا ہے کون

شیخ صاحب ہیں کہ کوئی غم زدہ یہ شب ڈھلے

دیکھنا ساقی در مے خانہ کھٹکاتا ہے کون

لوٹ لی جس نے ظفرؔ کی زندگی کی ہر خوشی

کون ہے وہ بے وفا یہ بات بتلاتا ہے کون