دماغ ڈوبتے مہتاب سا لگے ہے مجھے
Qamar Iqbal (1944–1988)دماغ ڈوبتے مہتاب سا لگے ہے مجھے
کروں جو یاد تو سب خواب سا لگے ہے مجھے
نہ جانے لوگ چلے جا رہے ہیں کس جانب
گزرتا وقت بھی سیلاب سا لگے ہے مجھے
ہرے ہیں جب سے مرے دل میں زخم یادوں کے
یہ دشت اور بھی شاداب سا لگے ہے مجھے
نکل نہ آئے کسی روز توڑ کر سینہ
یہ دل بھی قطرۂ سیماب سا لگے ہے مجھے
تمام عمر لٹایا جہاں لہو میں نے
وہ شہر آج بھی بے آب سا لگے ہے مجھے