بے وفا سے گلا کیا نہ گیا
Zafar Sambhali (b. 1944)بے وفا سے گلا کیا نہ گیا
لطف غم بے مزہ کیا نہ گیا
لاکھ چاہا بنے وہ میرا گھر
سنگ کو آئنہ کیا نہ گیا
اس نے غم ہی دئے محبت میں
پاس عہد وفا کیا نہ گیا
رات بھر جاگے انتظار کیا
اس سے وعدہ وفا کیا نہ گیا
وہ جدا ہم سے ہو گیا لیکن
اس کو دل سے جدا کیا نہ گیا
عشق میں غم سہے مگر پھر بھی
عشق سے دل برا کیا نہ گیا
بعد مدت کے جب ملے اس سے
کوئی شکوہ گلہ کیا نہ گیا
بت تراشے ہزار آذر نے
بت کو غم آشنا کیا نہ گیا
وعظ کیا کیا دئے نہ واعظ نے
رند کو پارسا کیا نہ گیا
جان دے دی کسی کے غم میں ظفرؔ
اور اس کے سوا کیا نہ گیا