لو پھر افق پہ آیا نظر عید کا ہلال
Zafar Sambhali (b. 1944)لو پھر افق پہ آیا نظر عید کا ہلال
پھر یاد آیا مجھ کو کوئی پیکر جمال
آنے لگے ہیں ذہن میں ماضی کے پھر خیال
بیتاب ہو کے کر ہی دیا دل نے یہ سوال
اس سال بھی کسی کی مجھے ہو سکے گی دید
اس سال بھی ظفرؔ یہ کہو ہو سکے گی عید
سن کر سوال دل کا میں رنجور ہو گیا
پتھر سے جیسے شیشہ کوئی چور ہو گیا
پی کر غم حیات کو مخمور ہو گیا
اترا نشہ تو کہنے پہ مجبور ہو گیا
کیا اس کی عید ہوگی جو بچھڑا ہو یار سے
سوکھے ہوئے شجر کو غرض کیا بہار سے