Poetry
Poet
Meter
- لکڑہارےچلو اس شہر سےGhayas Mateen (b. 1939)
- میں زندہ ہوںکہ اک آتشداں کے اندرGhayas Mateen (b. 1939)
- وہاں بھاؤ اچھا ملا تھاکوئی چار چھ لینتھ کیGhayas Mateen (b. 1939)
- وہ بدبو دار زہریلا دھواں ہےجس سے بنتی اور بگڑتی ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
- اجالوں کو میں نےیہ کہتے سنا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- ادھر آؤذرا اور قریبGhayas Mateen (b. 1939)
- جہاں میں ہوںوہاںGhayas Mateen (b. 1939)
- چاند اور سورج کےٹکڑے ٹکڑے کر دینا ہوGhayas Mateen (b. 1939)
- خون میں تمہارے ہیںکون سے جس میں کمGhayas Mateen (b. 1939)
- راکھ کا ڈھیر ہوا جاتا ہے دیرینہ محبت کا الاؤتیرگی چھانے کو ہے سائے یہ منڈلاتے ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
- روشنیوں سے گھرےایک بہت بڑے میدان میںGhayas Mateen (b. 1939)
- شہر ویراں کے مکینویہ سنوGhayas Mateen (b. 1939)
- مری آنکھیںاٹی ہیں گرد سے پھر بھیGhayas Mateen (b. 1939)
- میرے اندر تعفن زدہ ایک لاش تھیجسےGhayas Mateen (b. 1939)
- نہیں یہ میں نہیں ہوںمیں نہیں ہوںGhayas Mateen (b. 1939)
- وہ دیروز کی شامکب لوٹ کر آ سکی ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- وہ کون تھےسحاب تھے کتاب تھےGhayas Mateen (b. 1939)
- وہ لشکراور وہ ہاتھیGhayas Mateen (b. 1939)
- ہر پتھر میں چھپی ہوئی اک موت ہے جو سوچ رہی ہےسورج کے آئینے میں جو شکل بھی ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- ہواکچھ ایسی چلیGhayas Mateen (b. 1939)
- یہ کاغذ کی دیواریںنہ میری پناہ گاہ ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
- آتش فکر بدن گھلتا ہو پیہم جیسےکسی ناگن نے کہیں چاٹی ہو شبنم جیسےJafar Raza (1939–2022)
- بری بات ان کو ہماری لگےہمیں ان کی ہر بات پیاری لگےJafar Raza (1939–2022)
- تھا ان کی طرح میں بھی آغاز میں سودائیبڑھنے دو جنوں یاراں آ جائے گی دانائیJafar Raza (1939–2022)
- جب ہوئی خاک تو اکسیر ہوئی ہے باباآرزو مٹنے سے تاثیر ہوئی ہے باباJafar Raza (1939–2022)
- چاندنی رات میں صندل سا بکھرتا سایہایک آسیب کی صورت نظر آیا سایہJafar Raza (1939–2022)
- حدیث عشق کو عنوان لا جواب ملامجھے نگاہ ملی ہے اسے شباب ملاJafar Raza (1939–2022)
- حریم ذات کے پردے میں جستجو یاراںزہے نصیب مجھے میری آرزو یاراںJafar Raza (1939–2022)
- دل جو مردہ ہو تو یہ رشک جناں کچھ بھی نہیںلالہ ہو سبزہ ہو یا آب رواں کچھ بھی نہیںJafar Raza (1939–2022)
- دیکھے تو تمدن کا بننا کوئی اردو میںبیگانہ مزاجوں کی ہے دوستی اردو میںJafar Raza (1939–2022)
- ذات کے گرد فصیلیں ہیں ریاضت معلومصرف جنت کے لیے ہے تو عبادت معلومJafar Raza (1939–2022)
- ساز ہستی پہ اگر گاؤ تو کچھ بات بنےشعر بن جائیں جو یہ گھاؤ تو کچھ بات بنےJafar Raza (1939–2022)
- سچے دل سے وعدہ کیا ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہےاس کا کیا ہے بھول گیا ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہےJafar Raza (1939–2022)
- کب ہوا مٹھی میں آتی ہے عبث دوڑا کیاجانے کیا کیا کل یوں ہی میں رات بھر سوچا کیاJafar Raza (1939–2022)
- کبھی تو دوستو اپنے وطن کی بات کریںکبھی تو چاک دل و پیرہن کی بات کریںJafar Raza (1939–2022)
- نشتر سی دل میں چبھتی ہوئی بات لے چلیںآئے ہیں تو خلوص کی سوغات لے چلیںJafar Raza (1939–2022)
- وعدۂ الفت و پیمان وفا سے توبہتجربہ کہتا ہے اس حسن ادا سے توبہJafar Raza (1939–2022)
- ہجوم یاس میں بھی آس جاوداں ٹھہرییہ اپنی دھرتی کی بوباس بے کراں ٹھہریJafar Raza (1939–2022)
- ہر سمت تازگی سی جھرنوں کی نغمگی سے کتنیمشابہت ہے ساقی تری ہنسی سےJafar Raza (1939–2022)
- ہم اپنے آپ سے کرتے رہے بیاں تنہاتمہاری بزم میں بیٹھے کہاں کہاں تنہاJafar Raza (1939–2022)
- اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہاخدا کا شکر ہے طوفان گھر کا گھر میں رہاEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- جان سی آ گئی ہے جان میں کیاکہہ گئے ہیں وہ میرے کان میں کیاEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- حرم کی راہ میں ساقی کا گھر بھی آتا ہےسفر میں لمحۂ تر کہ سفر بھی آتا ہےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- عشق میں وصل کی تدبیر بتانے والاکون تھا زہر کو اکسیر بتانے والاEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- عہد رفتہ کی لکیروں پہ نہ چلتے رہئےوقت کے ساتھ خیالات بدلتے رہئےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- کیا اس کا گلہ یورش تہمات بہت ہےزندہ ہیں جو ہم لوگ یہی بات بہت ہےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- گلہ کیوں ہو ملی ہم کو وفا کمزمانے سے ہمیں تھے آشنا کمEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- نگاہ یوں ہی نہ بس رہ گزر سے واپس آمرصع ہو کے حدوں کی خبر سے واپس آEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- ہاتھوں میں تھا اک ہاتھ ابھی کل کی بات ہےجنت تھی کائنات ابھی کل کی بات ہےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- ہر گام حادثے ہیں مقدر بنے ہوئےرہزن دکھائی دیتے ہیں رہبر بنے ہوئےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)