مری آنکھیں
Ghayas Mateen (b. 1939)مری آنکھیں
اٹی ہیں گرد سے پھر بھی
میں سب کچھ دیکھ سکتی ہوں
زمیں پر
گاؤں نے
جب روپ دھارا
شہر کا
تب سے
سحر کی آنکھ کھلتے ہی
اسے پھر نیند آنے تک
ہزاروں نقش پا بنتے بگڑتے ہیں
کئی مانوس ہیں ان میں
کئی ہیں اجنبی لیکن
سبھی یہ چاہتے ہیں
یاد رہ جائیں زمانے کو
سحر کی آنکھ کھلتے ہی
اسے پھر نیند آنے تک
نہ جانے کتنے رکشے سائکلیں موٹر
مجھے یوں روند کر
آگے بڑھتے ہیں
کہ جیسے میں نے اپنا جسم
ان کو بیچ ڈالا ہے
میں راہوں کا
مقدر ہوں
ستم دیکھو
مرے سینے پہ پھوڑے پھنسیاں اب بھی
گڑھوں کی شکل میں
پھیلی ہوئی ہیں