نگاہ یوں ہی نہ بس رہ گزر سے واپس آ
Ehtisham Bachhrayuni (b. 1939)نگاہ یوں ہی نہ بس رہ گزر سے واپس آ
مرصع ہو کے حدوں کی خبر سے واپس آ
تو مجھ سے ہٹ کے کہیں اور کیوں رہے آخر
نکل کے منظر دیوار و در سے واپس آ
اگر ہیں دیکھنا اپنی تجلیاں مجھ میں
اتر کے نور کا دریا قمر سے واپس آ
فلک پہ بیٹھا ہوا جانے کون ہے مجھ سے
یہ کہہ رہا ہے کہ تو بحر و بر سے واپس آ
سکون و امن کا ساحل ہے منتظر تیرا
مری حیات کی کشتی بھنور سے واپس آ
تو اس کو بھیڑ میں ہر چند پا نہیں سکتا
خدا ملے گا خداؤں کے گھر سے واپس آ
وفا کتاب میں پڑھ لے وفا کے خواب نہ دیکھ
تو احتشامؔ خیالی سفر سے واپس آ