ہر پتھر میں چھپی ہوئی اک موت ہے جو سوچ رہی ہے

Ghayas Mateen (b. 1939)

ہر پتھر میں چھپی ہوئی اک موت ہے جو سوچ رہی ہے

سورج کے آئینے میں جو شکل بھی ہے

وہ اندھی کالی

دیواروں سے چپکی ہیں ٹوٹی پرچھائیں

کچی اینٹوں کے پل بنتے ہیں دن میں

راتوں میں پانی پر چلتے ہیں سب لوگ

سارے پربت

ساگر پی کر آئے ہیں

تم بونوں کی بستی میں بھی چھوٹے ہو

اپنے سائے سے ڈر کر کہتی ہیں فصلیں

سانپ اگاؤ

جتنے بھی مینڈک ہیں ان کو باہر بھیجو

اپنی اپنی قبر سے اٹھ کر

راتوں میں کیوں

کتبے لوگ مٹا دیتے ہیں

سارے کاغذ پر

کتنی ہی تصویریں ہیں

رات پگھلتے سورج کا منہ دیکھ رہی ہے

اب سو جاؤ