Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کبھی کبھی کوئی یادکوئی بہت پرانی یادObaidullah Aleem (1939–1998)
  2. مجھے خبر ہےتمہاری آنکھوں میں جو چھپا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  3. مرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوںیہ میرا چہرہ یہ میری آنکھیںObaidullah Aleem (1939–1998)
  4. میں بھی جھوٹا تم بھی جھوٹےآؤ چلو تنہا ہو جائیںObaidullah Aleem (1939–1998)
  5. آخری رات تھی وہمیں نے دل سے یہ کہاObaidullah Aleem (1939–1998)
  6. میں خود ہی اپنی بہار سے روٹھنے لگوں گرتو تم مجھے روٹھنے نہ دیناObaidullah Aleem (1939–1998)
  7. پاکستان کے سارے شہرو زندہ رہو پایندہ رہوروشنیوں رنگوں کی لہرو زندہ رہو پایندہ رہوObaidullah Aleem (1939–1998)
  8. تمہارے ہیں کہو اک دنکہو اک دنObaidullah Aleem (1939–1998)
  9. میری آنکھوں میں کوئی چہرہ چراغ آرزووہ میرا آئینہ جس سے خود جھلک جاؤں کبھیObaidullah Aleem (1939–1998)
  10. میں آئینہ ہوںاور ہر آنے والے کو وہی چہرہ دکھاتا ہوںObaidullah Aleem (1939–1998)
  11. میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوںنہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  12. میں وہ شجر تھاکہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھیObaidullah Aleem (1939–1998)
  13. یہ لفظ سقراط لفظ عیسیٰمیں ان کا خالق یہ میرے خالقObaidullah Aleem (1939–1998)
  14. آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گاجانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گاObaidullah Aleem (1939–1998)
  15. آؤ تم ہی کرو مسیحائیاب بہلتی نہیں ہے تنہائیObaidullah Aleem (1939–1998)
  16. اگر ہوں کچے گھروندوں میں آدمی آبادتو ایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  17. انسان ہو کسی بھی صدی کا کہیں کا ہویہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھاObaidullah Aleem (1939–1998)
  18. تم اپنے رنگ نہاؤ میں اپنی موج اڑوںوہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
  19. جس کو ملنا نہیں پھر اس سے محبت کیسیسوچتا جاؤں مگر دل میں بسائے جاؤںObaidullah Aleem (1939–1998)
  20. جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئیبدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
  21. جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبرہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھناObaidullah Aleem (1939–1998)
  22. دوستو جشن مناؤ کہ بہار آئی ہےپھول گرتے ہیں ہر اک شاخ سے آنسو کی طرحObaidullah Aleem (1939–1998)
  23. شاید اس راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیںدھوپ میں چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤںObaidullah Aleem (1939–1998)
  24. صبح چمن میں ایک یہی آفتاب تھااس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھاObaidullah Aleem (1939–1998)
  25. عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائےاب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائےObaidullah Aleem (1939–1998)
  26. میں اس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیاتو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
  27. میں تنہا تھا میں تنہا ہوںتم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
  28. ہزار راہ چلے پھر وہ رہ گزر آئیکہ اک سفر میں رہے اور ہر سفر سے گئےObaidullah Aleem (1939–1998)
  29. ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگنہ جانے کیا ہوا اک آن میں بکھر سے گئےObaidullah Aleem (1939–1998)
  30. آنکھ کی پتلی میں سورج سر میں کچھ سودا اگاپانیوں میں سرخ پودے دھوپ میں سایا اگاGhayas Mateen (b. 1939)
  31. اس طرف آگ کا دریا ہے ادھر کھائی ہےہم نے بھی پار اترنے کی قسم کھائی ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  32. بارش ہوگی تو بارش میں دونوں مل کر بھیگیں گےریت پہ ایک مسافر کا گھر اور سمندر بھیگیں گےGhayas Mateen (b. 1939)
  33. پاگل سی ہوا ڈھلتی ہوئی شام سمندرایسے ہی کہیں لے نہ ترا نام سمندرGhayas Mateen (b. 1939)
  34. تمہارا رنگ رنگ آسماں جیسا بدلتا ہےکسی کو چاہنے والا کہیں اتنا بدلتا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  35. جزیرے ہوں کہ وہ صحرا ہوں خواب ہونا ہےسمندروں کو کسی دن سراب ہونا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  36. خواب آنکھوں کی گلی چھوڑ کے جانے نکلےہم ادھر نیند کی دیوار گرانے نکلےGhayas Mateen (b. 1939)
  37. دل جلا پھر چراغ جلتے ہیاپنے دکھ بھی ہیں شام جیسے ہیGhayas Mateen (b. 1939)
  38. دھوپ کا احساس جانے کیوں اسے ہوتا نہیںوقت آوارہ ہے ٹھنڈی چھاؤں میں ہوتا نہیںGhayas Mateen (b. 1939)
  39. زمیں کے ساتھ فلک کے سفر میں ہم بھی ہیںقفس نصیب سہی بال و پر میں ہم بھی ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
  40. سورج کو کیا پتہ ہے کدھر دھوپ چاہئےآنگن بڑا ہے اپنے بھی گھر دھوپ چاہئےGhayas Mateen (b. 1939)
  41. شام کا رنگ جو گہرا ہوا آئینے میںاک ستارہ سا چمکنے لگا آئینے میںGhayas Mateen (b. 1939)
  42. لہجے کو پھول لفظ کو جگنو اگر کریںوقت رواں کے ساتھ معانی سفر کریںGhayas Mateen (b. 1939)
  43. نصیبہ جاگ اٹھا اور مقدر بن گیا اپناجہاں دیوار ہے اس کی وہیں گھر بن گیا اپناGhayas Mateen (b. 1939)
  44. وہ چنگاریوں کو ہوا دے گیاسمندر تھا لیکن یہ کیا دے گیاGhayas Mateen (b. 1939)
  45. ہوا بہت تیز چل رہی ہے چراغ جاں پھر بھی جل رہا ہےیہ کون ہے جو ہمارے پیچھے ہوا کے ہم راہ چل رہا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  46. زحمت کون و مکاں کھینچ رہا ہے کوئیتیرگی وسعت افلاک سے مٹ جائے گیGhayas Mateen (b. 1939)
  47. کتاب زیست ہوظلمات ہوGhayas Mateen (b. 1939)
  48. آسماں راحتوں کی جواں سیج تھاروشنی پوچھتی ہے کہ میںGhayas Mateen (b. 1939)
  49. پرندےرات کی شاخوں پہ بیٹھے ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
  50. چھت پہ دیواروں پہ در پرکھڑکیوں میںGhayas Mateen (b. 1939)